پاکستانی فوج کے کاروباری مفادات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کاروباری معاملات میں فوج کی دلچسپی کوئی نئی بات نہیں ہے اور اس کی تاریخ بھی کم و بیش اتنی ہی پرانی ہے جنتی خود سیاسی امور میں اس کی مداخلت کی۔ تاہم فوج کے کاروباری مفادات سے متعلق مستند مواد کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی رہی ہے۔ ڈاکٹر عائشہ جلال کی کتاب ’سٹیٹ آف مارشل رُول‘ اور ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کی ’ملٹری، سٹیٹ اینڈ سوسائٹی اِن پاکستان‘ فوج کے سیاسی کردار اور اس سے متعلق دیگر امور کا بخوبی محاکمہ کرتی ہیں لیکن فوج کے مالی مفادات کا موضوع ہمیشہ سے تشنہ رہا ہے۔ فوجی امور کی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب ’ملٹری انکارپوریٹڈ: انسائیڈ پاکستانز ملٹری اکانومی‘ اسی کمی کو پورا کرنے کی ایک کاوش نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے مطابق پاک فوج کے کاروباری مفادات معیشت کے تینوں سیکٹرز زراعت، مینوفیکچرنگ اور سروسز میں پائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض صورتوں میں یہ مفادات ادارہ جاتی سطع پر پائے جاتے ہیں جیسے نیشنل لاجسٹک سیل اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن میں جہاں کاروباری ادارے براہِ راست پاک فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ دوسری صورت فوجی فاؤنڈیشن، آرمی ویلفیئر ٹرسٹ، شاہین فاؤنڈیشن اور بحریہ فاؤنڈیشن جیسے اداروں کی ہے جو براہِ راست فوج کے زیر انتظام تو نہیں لیکن فوج کے ایسے اداروں سے گہرے مالی مفادات وابستہ ہیں۔ تیسری صورت فوج کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسروں کو حاصل ہونے والے مالی مفادات کی ہے جو انہیں سویلین اداروں میں ملازمتوں اور اِسی نوعیت کے دیگر طریقوں سے پہنچائے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اُن مشکلات کا بھی ذکر کیا ہے جو اس نوعیت کے تحقیقی کام میں انہیں پیش آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کتاب کے لئے بنیادی اور ثانوی دونوں ذرائع استعمال کیے ہیں۔ ’ریسرچ کے دوران مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ میڈیا اور سول سوسائٹی کی طرف سے فوج کی معاشی ایمپائر کو اجاگر کرنے میں ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دستیاب اعداد و شمار مثلاً بعض کمپنیوں کی مالیاتی رپورٹوں کا تجزیہ کرنے کی کوئی باقاعدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ مندرجہ بالا چاروں فاؤنڈیشنوں کی جانب سے چلائے جانے والے چھیانوے منصوبوں میں سے صرف نو سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے پاس رجسٹرڈ ہیں‘۔ مصنفہ کے مطابق فوج نے اپنی کاروباری سرگرمیوں سے متعلق ہمیشہ رازداری سے کام لیا ہے اور جب بھی کسی نے فوج کے زیر اہتمام چلنے والے کاروباری اداروں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ ’فوج کے کاروباری اداروں میں ایک بڑا گروپ فوجی فاؤنڈیشن ہے۔ سن دو ہزار پانچ میں تحقیقات کے دوران منتخب پارلیمنٹ کو وزارت دفاع نے جھاڑ پلا دی تھی کیونکہ اس نے فوجی فاؤنڈیشن کے کسی متنازعہ کاروباری لین دین کے بارے میں دریافت کیا تھا‘۔ فوج اپنی کاروباری سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کسی بھی کوشش کو ’مخالفین‘ کے حسد سے تعبیر کرتی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے صدر جنرل مشرف کی ایک تقریر سے اقتباس پیش کیا ہے۔ ’پھر ہمارے پاس آرمی ویلفیئر ٹرسٹ ہے، ہمارے پاس فوجی فاؤنڈیشن ہے۔ ہاں، یہ بینکنگ کا کام کر رہے ہیں ۔۔۔ یہ کام کر رہے ہیں ۔۔۔ ہمارے پاس فرٹیلائزر (کے کارخانے) ہیں ۔۔۔ ہم دوائیں تک تیار کر رہے ہیں۔ ہم نے سیمنٹ پلانٹ لگائے ہوئے ہیں ۔۔۔ تو پھر مسئلہ کیا ہے اگر یہ ادارے معیشت میں حصہ لے رہے ہیں اور اچھے طریقے سے چلائے جا رہے ہیں؟ ہمارے پاس بہترین بنک ہیں۔ ہمارے سیمنٹ کے کارخانے کی کارکردگی غیر معمولی طور پر اچھی ہے۔ ہمارے کھاد کارخانے غیر معمولی طور پر اچھے چل رہے ہیں۔ تو کسی کو حسد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ لوگ کیوں جلتے ہیں اگر ریٹائرڈ فوجی افسران یا ان کے ساتھ سویلین پاکستان کی معیشت کو بہتر بنا رہے ہیں اور اچھا کام کر رہے ہیں؟ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ کتاب ایک ایسے موقع پر شائع ہو رہی ہے جب فوج کے سیاسی کردار اور ان کے کاروباری مفادات کے بارے ایک بحث پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے وکیل اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے سنیچر کی شام سپریم کورٹ میں ہونے والے سیمینار میں حاضرین کی توجہ اس امر کی جانب دلائی تھی کہ بابائے قوم نے جس ریاست کو قائم کیا تھا وہ ایک فلاحی ریاست تھی جس کی منشا ملک کے تمام شہریوں کے مفادات کے لیے کام کرنا تھا۔ لیکن پاکستانی ریاست اب ایک سکیورٹی سٹیٹ کی شکل اختیار کر چکی ہے جو کا بنیادی کام پانچ لاکھ فوجیوں کے مفادات کا خیال رکھنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ملک کے نئے سیاسی منظر نامے میں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب فوج کی کاروباری سرگرمیوں کے بارے میں مواد کی کمی کو پورا کرتے ہوئے ایک کیٹالسٹ کردار ادا کر پاتی ہے یا نہیں۔ پلوٹو پریس لندن اور اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے زیر اہتمام چھپنے والی اس کتاب کی تقریب رونمائی جمعرات اکتیس مئی کو اسلام آباد میں ہو رہی ہے۔ |
اسی بارے میں ’فوج کا کوئی سیاسی کردار نہیں‘02 April, 2005 | پاکستان ’آئین افضل ہے یا فوجی ڈکٹیٹر‘04 April, 2005 | پاکستان فوج کے خلاف رائے پر شدید ردِ عمل 02 March, 2005 | پاکستان ’فوج کی ساکھ کو خطرہ ہے‘16 January, 2005 | پاکستان ’فوج لاپتہ فوجیوں کو تلاش کرے‘13 March, 2005 | پاکستان بری فوج ترقیاں، تبادلےاور تقرریاں 03 October, 2004 | پاکستان فوج: دو افسران کی تقرری کا مطلب؟03 October, 2004 | پاکستان فوج میں اہم تقرریاں02 October, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||