BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 April, 2007, 12:02 GMT 17:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سب سے بڑا چیلنج اندرونی خطرات‘

جنرل مشرف
بھارت کے ساتھ پہلے کبھی تعلقات اتنے اچھے نہیں تھے: جنرل مشرف
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ملک کو سب سے بڑا چیلنج اندرونی خطرات سے ہے تاہم انہیں امید ہے کہ میانہ رو طاقتوں کی مدد سے سخت گیر موقف رکھنے والوں کو شکست دی جا سکے گی۔

یہ بات صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستان فوج کے فارمیشن کمانڈرز کے اجلاس میں کہی جو منگل کودوسرے روز بھی راولپنڈی میں جاری رہا۔ منگل کے اجلاس کی صدارت فوج کے سربراہ اور صدر جنرل پرویز مشرف کر رہے ہیں۔

اجلاس میں دیگر کئی مسائل کے علاوہ اسلام آباد میں لال مسجد کا معملہ بھی زیر غور رہا۔

پاکستان فوج کے اعلی افسران کا سب سے بڑا اجتماع اگرچہ ایک معمول کا اجلاس قرار دیا جا رہا ہے لیکن یہ ایک ایسے وقت منعقد ہو رہا ہے جب ملک میں عدالتی بحران کی کیفیت ہے، قبائلی علاقوں کی صورتحال غیرواضع ہے، بظاہر طالبانائزیشن وفاقی دارلحکومت تک پہنچ چکی ہے اور صدارتی اور عام انتخابات آیا چاہتے ہیں۔

اجلاس کے دوران صدر مشرف نے فوجی افسران کو یہ بھی بتایا کہ بھارت کے ساتھ پہلے کبھی تعلقات اتنے اچھے نہیں تھے جتنے کہ آج ہیں۔ تاہم اس پیش رفت میں پاکستان اپنے اہداف سے نہیں ہٹے گا۔

یہ اجلاس چند روز قبل فوج میں اعلی فوجی افسران کے بڑے پیمانے پر تبادلوں کے بعد ہو رہا ہے۔

عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار پر ابھی بھی مغربی ممالک اور میڈیا سوالیہ نشان لگا رہا ہے اور ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ مسائل کے حل میں پیش رفت سست قرار دی جا رہی ہے۔ عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ راولپنڈی کے فارمیشن کمانڈرز کے اجلاس میں یہ سب موضوعات زیر غور رہیں گے۔

فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ کہتے ہیں چونکہ چالیس سے زائد اعلی فوجی افسران اکٹھے ہوتے ہیں تو ان کو مختلف موضوعات پر جن میں داخلی اور بیرونی مسائل شامل ہیں بریفنگ دی جاتی ہے۔ یہ بریفنگ وزارت خارجہ اور آئی ایس آئی جیسے محکمے کے اہلکار دیتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ اس اجلاس سے چند روز قبل فوج میں برے پیمانے پر تبادلے ہوئے ہیں اور تین کور کمانڈرز کو تبدیل کیا گیا تو مرزا اسلم بیگ کا کہنا تھا کہ اُس کا اس اجلاس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فارمیشن کمانڈرز کے اجلاس میں صرف افسروں کی ترقی پر بات ہوتی ہے جبکہ تبادلے فوج کا سربراہ کرتا ہے۔

اجلاس کے آخری دو روز فوجی افسران کی ترقی پر غور ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد