جنرل مشرف مسلم لیگی امیدوار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ حکمران مسلم لیگ کے آئندہ صدارتی امیدوار صدر مشرف ہوں گے اور انہیں رواں سال سولہ ستمبر سے سولہ اکتوبر کے درمیان دوبارہ صدر منتخب کر لیا جائے گا۔ جمعرات کو پارلیمان کے کیفے ٹیریا میں نیوز بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ آئین واضح ہے کہ صدر کا انتخاب ان کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ساٹھ یا مدت ختم ہونے کے تیس روز کے اندر کرانا لازمی ہے۔ ان کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کے موجودہ عہدے کی مدت پندرہ نومبر کو پوری ہوگی اس لیے حکومت اس سے ساٹھ روز پہلے ہی انہیں منتخب کرے گی۔ محمد علی درانی سے کئی سوالات ہوئے کہ کیا صدر کو موجودہ اسمبلیاں ہی منتحب کریں گی یا نومنتخب اسمبلیاں؟ انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی اسمبلیاں اس وقت موجود ہوں گی وہ صدر کا انتخاب کریں گی۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی جو کہ سولہ نومبر کو ختم ہوگی اور آئین کے مطابق اس کے بعد نگران حکومت قائم ہوگی جو ساٹھ روز میں انتخابات کرائے گی۔
جب کئی وزراء کی موجودگی کے باوجود بھی کسی نے جواب نہیں دیا تو رضا ربانی، پروفیسر خورشید، عبدالرحیم مندو خیل اور صفدر عباسی سمیت کئی حزب مخالف کے سینیٹروں نے ایوان میں سخت احتجاج کیا۔ اس کے بعد پارلیمانی امور کے نائب وزیر کامل علی آغا نے کہا کہ بدھ کو کابینہ کو آئینی ماہر سید شریف الدین پیرزادہ نے بتایا کہ آئین کی رو سے صدر کو پندرہ ستمبر سے پندرہ اکتوبر تک منتخب کیا جاسکتا ہے۔ جس پر رضا ربانی نے کہا کہ وزیر کے بیان سے لگتا ہے کہ کابینہ نے موجودہ اسمبلیوں سے صدر کو منتخب کرانے کا فیصلہ نہیں کیا۔
رضا ربانی نے کہا کہ موجودہ اسمبلیوں سے صدر جنرل پرویز مشرف کو مزید پانچ برس کے لیے صدر منتخب کرانا غیر آئینی ہوگا کیونکہ موجودہ اسمبلیوں کو خود پانچ برس کے لیے منتخب کیا گیا تو وہ صدر کو دو بار یعنی دس برس کے لیے کیسے منتخب کرسکتی ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ حزب مخالف ہرگز حکومت کو موجودہ اسمبلیوں سے صدر کو منتخب ہونے نہیں دے گی اور اس بارے میں مستعفی ہونے سمیت تمام امکانات پر غور ہوگا اور مشترکہ طور پر حمکت عملی وضح کر کے حکومت کی ایسی کوششوں کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے صدر کے انتخاب کے بارے میں بیانات سے جہاں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں وہاں سیاسی صورتحال میں تناؤ اور ابہام بھی پیدا ہوتا نظر آتا ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت جب افغانستان میں سرحد پار شدت پسندی کے حوالے سے حکومت پر عالمی دباؤ بڑھتا ہوا نظر آتا ہے تو ایسے میں حکومت نے صدر کے انتخاب سے آٹھ ماہ قبل ایک ایسا معاملہ چھیڑ دیا ہے کہ سب کی توجہ اس پر مرکوز ہوگئی ہے۔ | اسی بارے میں مشرف کی آئینی مشکلات01 January, 2007 | پاکستان ’وردی میں ملبوس جمہوریت ہے‘10 December, 2006 | پاکستان اختلافات قائم، اتحاد خطرے میں07 December, 2006 | پاکستان وردی ابھی نہیں اترےگی : مشرف06 December, 2006 | پاکستان اپوزیشن: استعفیٰ، تحریک کے دعوے08 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||