BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 March, 2007, 15:29 GMT 20:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جنرل مشرف کا کشمیر حل مسترد‘

امان اللہ خان
یکم مارچ کو امان اللہ خان کی دعوت پر چار جماعتوں کے نمائندوں کا ایک اجلاس ہوا
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی چار سیاسی جماعتوں نے خبردار کیا ہے کہ کشمیر کی تقسیم پر مبنی کوئی بھی حل قبول نہیں کیا جائے گا اور اگر پاکستان اور بھارت کی حکومتوں نے ایسا کوئی حل مسلط کیا تو وہ اس کی مخالفت کریں گے۔

یہ اعلان جمعہ کو ایک مشترکہ بیان میں کیا گیا ہے جو کشمیر کی علیحدگی پسند جماعت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے اپنے دھڑے کے رہنما امان اللہ خان نے جاری کیا ہے۔

بیان کے مطابق یکم مارچ کو امان اللہ خان کی دعوت پر چار جماعتوں کے نمائندوں کا ایک اجلاس ہوا جس میں متحدہ مجلس عمل کے سردار اعجاز افضل، جموں کشمیر لبریشن لیگ کے جسٹس (ر) عبدالمجید اور جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کے رہنما سردار خالد ابراہیم شریک ہوئے۔

چاروں جماعتوں کے نمائندوں نے کہا کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کے چار نکاتی حل کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ ان کے بقول وہ کشمیر کو تقسیم کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی اکثریت جس حل کو قبول نہیں کرے گی اگر وہ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ احتجاج کریں گے۔

درپردہ تقسیم کی بات ہو رہی ہے
 درپردہ کشمیر کے بارے میں جو بات چیت ہورہی ہے اس کے متعلق کشمیری رہنماؤں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور بظاہر انہیں لگتا ہے کہ خفیہ سفارتکاری کے ذریعے کشمیر کی تقسیم کے فارمولے پر بات ہو رہی ہے۔
امان اللہ خان

بعد میں بی بی سی بات کرتے ہوئے امان اللہ خان کا کہنا ہے کہ درپردہ کشمیر کے بارے میں جو بات چیت ہورہی ہے اس کے متعلق کشمیری رہنماؤں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور بظاہر انہیں لگتا ہے کہ خفیہ سفارتکاری کے ذریعے کشمیر کی تقسیم کے فارمولے پر بات ہو رہی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارت اور پاکستان کے زیرانتظام منقسم کشمیر میں حکومت کے مطابق اکثریت کی نمائندہ جماعتوں کو دونوں ممالک کی بات چیت پر اعتراض نہیں ہے تو امان اللہ خان نے کہا کہ کشمیر کے حکمرانوں کو حکومت کا مینڈیٹ ہے اور انہیں عوام کی اکثریت کی خواہشات کے برعکس مسئلہ کشمیر حل کرنے کا اختیار نہیں۔

اسی بارے میں
مسئلہ کشمیر کا حل ممکن ہے:بش
27 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد