’مسئلہ کشمیر کا حل جلد متوقع‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی بعض اعتدال پسند جماعتوں کے اتحاد آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آئندہ دو تین ماہ اہم ہیں اور اس عرصے میں وہ بڑے بریک تھرو کے لیے پرامید ہیں۔ یہ بات انہوں نے آج صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ ان کے مطابق اس عرصے میں جب بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اسلام آباد آئے یا صدر جنرل پرویز مشرف دلی گئے تو اہم پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف سے تفصیلی بات چیت ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ ہندوستان ابھی لچک دکھا رہا ہے۔ ان کے مطابق ملاقات میں پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری بھی موجود رہے اور انہوں نے حال ہی میں بھارت کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی سے ہونے والی بات چیت کی تفصیل بھی بتائی۔
میر واعظ نے کہا کہ ان کے دورہ پاکستان کا مقصد کشمیری قیادت سے ملاقات کرکے ہم آہنگی پیدا کرنا ہے تاکہ منقسم کشمیر کی قیادت پاکستان اور بھارت سے ہٹ کر اپنا بھی کوئی حل تجویز کرسکے۔ ’کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ نہیں،‘ جیسے پاکستانی حکام کے بیانات کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ ’پاکستان صحیح کر رہا ہے‘۔ ان کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں بھارت کو پرواہ نہیں تھی کیونکہ وہ چھ لاکھ فوج لے کر بیٹھا ہوا ہے اس لیے پاکستان کو لچک دکھانی تھی تاکہ ہندوستان کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے تو اس لیے پاکستان نے جو بیان دیے وہ درست تھے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ ان کی اسلام آباد آمد کے موقع پر کشمیر میں شدت پسندی میں یقین رکھنے والے جو افراد مارے گئے ان کے اہل خانہ اور بعض کاالعدم جماعتوں کے کارکنوں نے مظاہرہ کیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ پاکستان حکومت اور حریت کانفرنس ان کی قربانیاں رائیگاں کر رہی ہیں تو میر واعظ نے کہا کہ ہر کشمیری چاہتا ہے کہ مسئلہ حل ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ایسے عناصر ہیں جن کی سیاسی دوکانیں مار دھاڑ سے چلتی ہیں اور بعض فورسز جو مسئلہ کشمیر کا حل نہیں چاہتیں وہ انہیں استعمال کر رہی ہیں۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کا تین رکنی وفد جس میں عبدالغنی بٹ اور بلال لون بھی شامل ہیں، ایک ہفتے کے دورے پر اسلام آباد میں ہے ۔ وفد نے جمعہ کی صبح چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں حکمران مسلم لیگ کے مرکزی رہنماؤں سے ملاقات کی اور تبادلہ خیال کیا۔ حریت کے وفد نے شام گئے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق سے ملاقات کی اور انہوں نے مہمان کشمیریوں کے اعزاز میں عشایئہ بھی دیا۔ پروگرام کے مطابق وفد سنیچر کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کرے گا۔ جبکہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں سے بھی وہ ملاقاتیں کریں گے۔ | اسی بارے میں سیاچن پر پیش رفت کا عزم13 January, 2007 | پاکستان اس بار بھارت پر الزام نہیں16 January, 2007 | پاکستان حریت وفد لاہور پہنچ گیا18 January, 2007 | پاکستان ’کشمیر پالیسی میں تبدیلی نہیں‘26 December, 2006 | پاکستان ہندوستان کا رویہ بدل رہاہے:میر واعظ18 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||