سیاچن پر پیش رفت کا عزم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر خارجہ اور ان کے پاکستانی ہم منصب خورشید قصوری نے متنازعہ کشمیر میں سیاچن گلیشیر کو حل کرنے کے لئے مثبت ارادہ ظاہر کیا ہے۔ دونوں ملکوں امن مذاکرات کا اگلا دور مارچ میں منعقد کرنے بھی اتفاق کیا۔ ہندوستان اور پاکستان کے وزراء خارجہ نے سنیچر کی شام کو اسلام آباد میں مشترکہ نیوز کانفرنس کے خطاب کرتے کہا کہ انھوں نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ سیاچن گلیشیر کے معاملے پر جلد ملاقات کریں۔ اس نیوز کانفرنس میں دونوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے مثبت رویے کا اظہار کیا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا کہ اس معاملے پر کافی کام ہوچکا ہے لیکن انھوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے۔ خورشید قصوری نے کہا کہ ’سیاچین کے مسلے پر کافی کام ہوچکا ہے۔ کچھ ایسی باتیں ہیں جنکی تفصیل میں نہیں بتا سکتا ہے۔‘ انھوں نے اپنے ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’میں نے ان سے کہا ہے کہ اگر ان کی یہ جاننے کی نیت ہے کہ بھارتی فوج کہاں تھی تو ہم بھارت کے اندیشوں کو دور کرنے کے لئے راستے تلاش کرسکتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ حکام کو ملنے دیں کیوں کہ جامع منصوبے کو نظر میں رکھتے ہوئے ان کی ملاقات ضروری ہے۔ قصوری نے کہا کہ ہمارے خارجہ سیکریڑی ریاض محمد خان نے دلی میں اپنے ہم منصب سے ملاقات میں تفصیلی منصوبہ پیش کیا تھا۔
بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھر جی نے بھی کہا کہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے وہ جلد ملیں اور اس معاملے پر توجہ دیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم نے طے کیا ہے کہ حکام جلدی ملاقات کریں اور معاملے پر توجہ دیں۔ سرکریک پر متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد کام مکمل کرلیں اور سرکر یک کا مشترکہ سروے پندرہ جنوری سے شروع ہوگا۔ مبصرین کے مطابق وزرا خارجہ نے گفتگو سے یوں محسوس ہورہا تھا کہ دونوں ممالک اس مسلے کو حل کرنے کے لئے مثبت ارادہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے خورشید قصوری نے نیوز کانفرنس میں یہ بھی بتایا کہ انکی اپنے بھارتی ہم منصب سے بات چیت کے دوران جامع مذاکرات کے تیسرے دور کا جائزہ لیا اور یہ کہ دونوں ملکوں کے درمیان معاملات جن میں امن وہ سلامتی ، دہشت گردی ، جموں و کشمیر ، سرکریک ، سیاچن ، وولر بیراج کے علاوہ دیگر مسائل پر بھی بات چیت ہوئی۔ ہندوستان اور پاکستان کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزرا بات چیت بہت ہی دوستانہ ماحول میں ہوئی اور مفید رہی ۔ دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ جامع مذاکرات کا اگلا دور مارچ میں ہوگا اور اس پر بھی اتفاق کیا گیا کہ شدت پسندی سے لڑنے کے لئے دونوں ملکوں کے انسداد دہشت گردی کے مشترکہ نظام کی بات چیت مارچ کا مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہوگی۔ پرنب مکھر جی سنیچر کو پاکستان کے دو روزدہ دورے پر پاکستان پہنچے۔ انھوں نے اپنی آمد کے تھوڑی دیر بعد پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی اور شام میں ان کی ملاقات ان کے پاکستانی ہم منصب سے ہوئی۔ پرنب مکھر جی کے دورے کا مقصد چودھویں سارک سربراہ کانفرنس کے حوالے سے ہے وہ پاکستان کے وزیر اعظم کو سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے دعوت دینے آئے ہیں اور ان تک دعوت نامہ پہنچادیا گیا ہے۔ دنیا کے سب سے اونچے میدان جنگ سیاچن گلیشیئر پر فوج کی موجودگی کم کرنے کے لئے اب تک دس مرتبہ بات چیت ہوچکی ہے لیکن اس بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔ بھارت کا یہ موقف رہا ہے کہ سیاچن گلیشیئر پر پاکستان موجودہ صورت حال کو قبول کرلے تو وہ اپنی فوجیں ہٹانے کے لئے تیار ہے لیکن پاکستان اس شرط کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ پاکستان سنہ انیس سو چوراسی سے قبل کی صورت حال ماننے کو تیار ہے جب سیاچن گلیشیئر بھارتی فوج سے پوری طرح خالی تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات سنہ انیس سو چوراسی میں اس وقت شروع ہوئے تھے جب ہندوستان نے تقریباً بائیس ہزار فٹ اونچی گلیشیئر پہاڑیوں پر اپنی فوج اتار دی تھی۔ اس وقت سے دونوں کے درمیان سیاچن کی برف پوش پہاڑیاں دنیا کا سب سے اونچا محاذ جنگ بنی ہوئی ہیں۔ کچھ برس قبل دونوں کے درمیان کشیدگی کے سبب جھڑپیں ہوئی تھیں جس کے بعد سے ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ میڑ اونچی ان پہاڑیوں پر دونوں جانب کی فوجیں تعینات ہیں۔ ان پہاڑیوں پر جہاں باہمی تصادم میں ہزاروں فوجی مارے گئے ہیں وہیں سخت سردی اور خراب موسم کے سبب بھی بے شمار ہلاکتیں ہوئی ہیں ۔ دونوں ممالک کی یہ کوشش ہے کہ اس معاملے پر کوئی پیش رفت ہو اور ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک دونوں ممالک لچک کا مطاہرہ نہیں کریں گے اس وقت یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ اتوار کو امکانی طور پر وطن واپس جانے سے قبل بھارتی وزیر خارجہ جنوبی ایشیا میں صحافیوں کی ایک تنظیم سیفما سے خطاب کریں گے اور پاکستانی سیاست دانوں سے ملاقات کریں گے۔ | اسی بارے میں پرنب کی وزیراعظم ،صدر سےملاقات13 January, 2007 | پاکستان کشمیر: مشترکہ کنٹرول کی تیاری13 January, 2007 | انڈیا پرنب پاکستان کے دورے پر13 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||