BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 January, 2007, 15:26 GMT 20:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: مشترکہ کنٹرول کی تیاری

عمر فاروق
’امن کے عمل کو مسلئہ کشمیر کے حل کی جانب لیجانا ہماری مجبوری ہے
پاکستان اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے قائدین مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کم از کم مشترکہ پروگرام تشکیل دے رہے ہیں۔

اس سلسلے میں علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق اسلام آباد اور مظفرآباد کے پانچ روزہ دورے کے دوران پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق کے ہمراہ ایک لائحہ عمل طے کریں گے دونوں رہنما اس حوالے سے کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینے کی کوشش بھی کریں گے۔

یہ انکشاف میرواعظ نے ہفتے کو سرینگر سے جموں روانگی کے وقت بی بی سی کے ساتھ مختصر بات چیت کے دوران کیا۔ جموں میں چار روزہ قیام کے بعد میرواعظ عمر نئی دلّی روانہ ہوں گے جہاں وہ سترہ جنوری کو ہندوستانی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ ممکنہ ملاقات کے بعد اعتدال پسند حریت کانفرنس کے سہ رکنی وفد کے ہمراہ پاکستانی دورہ پر جائیں گے۔

عمر فاروق نے بتایا کہ ان کی حریت کانفرنس جموں کشمیر کے دونوں حصوں کو پانچ خطوں پر مشتمل ایک متنازعہ علاقہ سمجھتی ہے جس کا حل یہ ہو سکتا ہے کہ پانچوں خطوں کو علیحدہ علیحدہ طور پر خودمختار بناکر انہیں ایک مشترکہ وفاق کے تابع رکھا جائے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس مشترکہ وفاق کی سلامتی اور دفاع کے لئے ہندوستان اور پاکستان کو متفقہ اور مشترکہ نظام تشکیل دینا ہوگا۔ میر واعظ نے امید ظاہر کی کہ مظفرآباد میں مسلح کشمیری قیادت ان تجاویز کا خیر مقدم کرے گی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ، کشمیر کے دو حصوں کی قیادت کو ایک جگہ جمع ہوکر کوئی مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے کے لئےکسی کی ثالثی کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ مختلف مسلح رہنماؤں خاص طور پر جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کے ساتھ اس حوالے سے تفصیل سے بات کریں گے۔

انہوں نے کہا ’امن کے عمل کو مسلئہ کشمیر کے حل کی جانب لے جانا ہماری مجبوری ہے اور اس کے لئے افہام و تفہیم کی ضرورت ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا ’ہماری مجاہدین قیادت کے تحفظات بھی بجا ہیں کیونکہ ہمیشہ حکومت ہند نے ہی امن کےعمل کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن وزیر اعظم ڈاکٹر سنگھ اورصدر پرویز مشرف کی میانہ روی اور حقیقت پسندی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے‘۔

واضح رہے کہ خود حکمرانی اور مشترکہ کنٹرول کا آئیڈیا دراصل پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے ہی متعارف کروایا ہے اور تب سے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں یہ نمایاں سیاسی قوتوں کا بنیادی نعرہ بن چکا ہے۔

ہندوستانی وزیر اعظم نے بھی اس سال کے آغاز میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن، سلامتی اور دوستی کے معاہدے کی پیشکش کا اعادہ کیا۔ جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے معنی خیز طور پر آٹھ جنوری کو ریاستی قانون ساز ادارے میں ان تجاویز پر غور کرنے کی تلقین کی۔ اس سے قبل وہ ان تجاویز پر رائے زنی سے اعتراض کرتے تھے۔

اسی بارے میں
کشمیر فارمولوں کی دوڑ
16 November, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد