کشمیر: مشترکہ کنٹرول کی تیاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے قائدین مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کم از کم مشترکہ پروگرام تشکیل دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق اسلام آباد اور مظفرآباد کے پانچ روزہ دورے کے دوران پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق کے ہمراہ ایک لائحہ عمل طے کریں گے دونوں رہنما اس حوالے سے کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینے کی کوشش بھی کریں گے۔ یہ انکشاف میرواعظ نے ہفتے کو سرینگر سے جموں روانگی کے وقت بی بی سی کے ساتھ مختصر بات چیت کے دوران کیا۔ جموں میں چار روزہ قیام کے بعد میرواعظ عمر نئی دلّی روانہ ہوں گے جہاں وہ سترہ جنوری کو ہندوستانی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ ممکنہ ملاقات کے بعد اعتدال پسند حریت کانفرنس کے سہ رکنی وفد کے ہمراہ پاکستانی دورہ پر جائیں گے۔ عمر فاروق نے بتایا کہ ان کی حریت کانفرنس جموں کشمیر کے دونوں حصوں کو پانچ خطوں پر مشتمل ایک متنازعہ علاقہ سمجھتی ہے جس کا حل یہ ہو سکتا ہے کہ پانچوں خطوں کو علیحدہ علیحدہ طور پر خودمختار بناکر انہیں ایک مشترکہ وفاق کے تابع رکھا جائے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس مشترکہ وفاق کی سلامتی اور دفاع کے لئے ہندوستان اور پاکستان کو متفقہ اور مشترکہ نظام تشکیل دینا ہوگا۔ میر واعظ نے امید ظاہر کی کہ مظفرآباد میں مسلح کشمیری قیادت ان تجاویز کا خیر مقدم کرے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ، کشمیر کے دو حصوں کی قیادت کو ایک جگہ جمع ہوکر کوئی مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے کے لئےکسی کی ثالثی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مختلف مسلح رہنماؤں خاص طور پر جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کے ساتھ اس حوالے سے تفصیل سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا ’امن کے عمل کو مسلئہ کشمیر کے حل کی جانب لے جانا ہماری مجبوری ہے اور اس کے لئے افہام و تفہیم کی ضرورت ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا ’ہماری مجاہدین قیادت کے تحفظات بھی بجا ہیں کیونکہ ہمیشہ حکومت ہند نے ہی امن کےعمل کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن وزیر اعظم ڈاکٹر سنگھ اورصدر پرویز مشرف کی میانہ روی اور حقیقت پسندی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے‘۔ واضح رہے کہ خود حکمرانی اور مشترکہ کنٹرول کا آئیڈیا دراصل پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے ہی متعارف کروایا ہے اور تب سے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں یہ نمایاں سیاسی قوتوں کا بنیادی نعرہ بن چکا ہے۔ ہندوستانی وزیر اعظم نے بھی اس سال کے آغاز میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن، سلامتی اور دوستی کے معاہدے کی پیشکش کا اعادہ کیا۔ جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے معنی خیز طور پر آٹھ جنوری کو ریاستی قانون ساز ادارے میں ان تجاویز پر غور کرنے کی تلقین کی۔ اس سے قبل وہ ان تجاویز پر رائے زنی سے اعتراض کرتے تھے۔ | اسی بارے میں مسئلہ کشمیر: دھند چھٹنے والی ہے؟08 December, 2006 | انڈیا کشمیر فارمولوں کی دوڑ16 November, 2006 | انڈیا کشمیر: فوجی انخلا کی تیاری؟17 November, 2006 | انڈیا بات چیت آئین کے باہر: گیلانی07 December, 2006 | انڈیا کشمیرمیں ملاقاتوں کا دورجاری 05 January, 2007 | انڈیا منموہن:’نئی تجاویز کا خیر مقدم‘17 December, 2006 | انڈیا کشمیر 2006 :فارمولوں،مظاہروں اور لچک کا سال24 December, 2006 | انڈیا کشمیری خواتین کا کردار بدل رہا ہے25 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||