بات چیت آئین کے باہر: گیلانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بزرگ علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی نے جمعرات کو یہاں اعلان کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کوحل کرنے کے لیے بات چیت کو ایک آپشن سمجھتے ہیں، بشرطیکہ بات چیت ہندوستانی آئین کے باہر ہو۔ جنرل مشرف کے چار نکاتی فارمولہ پر پریس کانفرنس میں اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے گو اس فارمولہ کو مشرف کی ’ذاتی رائے‘ قرار دیا، لیکن ساتھ ہی کہا کہ اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر سے متعلق منظورشدہ قراردادوں کا ایک ہی آپشن ہے اور وہ ہے سہ فریقی بات چیت۔ مسٹر گیلانی نے کہا کہ، ’عوام کو کوئی ایسا حل قبول نہیں ہوگا جو ہندوستانی آئین کے تحت ہو‘۔ انہوں نے ایسے کسی حل پر متفق ہونے کے لیے بھارت، پاکستان اور کشمیری قیادت کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کی حمایت کی۔ انہوں نے وضاحت کرنے ہوئے کہا کہ، ’یہ مذاکرات نہ صرف ہندوستانی آئین کے باہر ہونگے بلکہ اس کے لیے ہندستان کو چار شرائط پورا کرنا ہوں گی‘۔ شرائط بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’مسئلہ کشمیر کو واضح الفاظ میں متنازعہ خطہ قرار دیا جائے، تمام نظر بندوں کو رہا کیا جائے، ریاست پر نافذ کالے قوانین کو ختم کیا جائے اور یہاں سے فوجی انخلا کو یقینی بنایا جائے‘۔ مشرف کی طرف سے کشمیر کی دعویداری سے دستبرداری کی پیشکش پر پوچھے گئے ایک سوال کےجواب میں گیلانی نے کہا کہ اگر پاکستان نے کبھی کشمیرکاز کی حمایت سے ہاتھ کھینچ بھی لیا ’تو ہم اپنی جدوجہد کو اللہ کی نصرت اور عوام کی یکسوئی کے ذریعہ آگے بڑھائیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ’فوجی حکمران نائن الیون کے بعد خوف اور مرعوبیت کے شکار ہیں، اسی لیے فارمولہ پر فارمولہ پیش کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مشرف کا تازہ بیان ان کا ذاتی خیال ہے، کیونکہ ان کے انٹرویو کے فوراً بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے کشمیر کے تعلق سے پاکستان کے دیرینہ اصولی مؤقف کا اعادہ کیا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرف نے ایسا بیان دینے سے قبل پارلیمنٹ یا اپنی وفاقی کابینہ سے مشاورت نہیں کی تھی۔ مسٹر گیلانی نے مشرف فارمولے پر براہ راست رائے زنی نہ کرنے کی یہ کہہ کر وضاحت کی کہ مشرف صاحب نائن الیون کے بعد سے بیسیوں مرتبہ ایسے فارمولے دے چکے ہیں اور ہم وقت وقت پر انہیں مسترد کرتے رہے ہیں، لہٰذا اس معاملے میں زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں‘۔ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں کشمیر سمیت جتنے بھی مسائل ہیں ان کی چار وجوہات ہیں۔ ’ہندوستان نے انگریزوں کی حمایت سے سازش کرکے تقسیم ہند کے اصولوں کو کشمیر پر اپلائی نہیں کیا۔ دوسرے یہ کہ مہاراجہ ہری سنگھ ذہنی اور مذہبی طور پر ہندوستان کے ہمدرد تھے۔ تیسرے یہ کہ یہاں اُسوقت کی قیادت کرپٹ تھی، اور چوتھی بات یہ کہ اس وقت قائد اعظم محمد علی جناح علیل تھے اور پاکستانی حکمرانوں نے اقدامی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کیا‘۔ |
اسی بارے میں کشمیریوں کا ملاجل ردعمل 05 December, 2006 | انڈیا کشمیر: زمین کی نیلامی پر ہڑتال25 November, 2006 | انڈیا علی شاہ گیلانی دوبارہ منتخب13 September, 2006 | انڈیا کشمیر: بچوں کا کھیل اور خدشات 14 August, 2006 | انڈیا ’مذاکرات کیلیےمناسب وقت نہیں‘20 February, 2006 | انڈیا کشمیر: راؤنڈ ٹیبل مذاکرات کی دعوت 15 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||