BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 October, 2006, 10:47 GMT 15:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیری خواتین کا کردار بدل رہا ہے

کشمیری خواتین کے لیئے شادی کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے
شدت پسند تحریک اور مسلسل بدلتے ہوئے حالات کے درمیان ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سماجی تانا بانا بھی بدل رہا ہے۔ خبر یہ ہے کہ کشمیر میں خواتین کے کردار میں جہاں ایک طرف زبردست تبدیلی آ رہی ہے وہیں دوسری جانب خواتین کے لیئے شادی کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔

عام طور پر کشمیر میں اٹھارہ سے پچیس سال کی عمر میں لڑکیوں کی شادیاں کر دی جاتی تھیں لیکن اب لڑکیوں کے لیئے شادی کی عمر 35 برس تک پہنچ چکی ہے۔

کشمیر یونیورسٹی میں میڈیا شعبے کی پروفیسر اور خواتین کے مسائل پر لکھنے والی سیدہ افشاں کے مطابق اس کی دو وجوہات ہیں: پہلی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ پندرہ برسوں ميں ریاستی حکومت نے اپنے محکموں میں نئي ملازمت پر روک لگا رکھی ہے اور جنہیں نوکری ملتی بھی ہے تو وہ عارضی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق وادی میں تشدد کے سبب باہر سے سرمایہ کاری نہیں ہو رہی، نجی کمپنیوں کی تعداد بہت کم ہے اور سیاحت نے دم توڑ دیا ہے۔ سیدہ افشاں کا کہنا ہے کہ ان سب کا اثر روز گار پر پڑا ہے اور کوئی بھی بے روزگاروں سے اپنی بیٹی کی شادی کرنے کے لیئے آسانی سے رضامند نہیں ہوتا۔

سیدہ افشاں نے مزید کہا کہ ’کشمیر کی اقتصادی سچائیوں نے لڑکیوں کے سامنے ایک اور شرط سامنے رکھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ لڑکی نوکری پیشہ ہونی چاہیئے اور کئی تو یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ لڑکیوں کے پاس پکّی سرکاری نوکری ہو۔

سیدہ افشاں کے مطابق اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے ہاتھوں ہزاروں افراد مارے گئے ہیں۔ ان کے مطابق مرنے والوں کی تعداد تقریباً تیس سے اسّی ہزار تک ہو سکتی ہے۔ ہلاک ہونے والے لوگوں میں اسّی فیصد لوگ نوجوان تھے۔ وہ بتاتی ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکتیں اور گمشدگی بھی لڑکیوں کی شادی میں تاخیر کی ایک اہم وجہ ہے۔

کشمیر میں لڑکیوں کی عمر بڑھتی جا رہی ہے مگر ان کے لواحقین ریکارڈ پر اس بات کا اعتراف نہیں کرتے۔

کشمیر
احتجاجی مظاہروں میں بھی خواتین کی تعداد پہلے سے زیادہ ہونے لگی ہے

شدت پسند تحریک نے خواتین کی دنیا کو شاید ہمیشہ کے لیئے بدل دیا ہے اس کے علاوہ خواتین کا ایک اور طبقہ اس تحریک کے سبب متاثر ہوا ہے اور وہ ہے یہاں موجود بیوائیں، وہ خواتین جن کے شوہر شدت پسندوں یا پھر سکیورٹی اہلکاروں کی گولیوں کا شکار ہو گئے۔

بیواؤں کے مسائل پر کام کرنے والی’ کشمیر ٹائمز‘ کی صحافی افسانہ رشید کا کہنا ہے کہ کشمیر میں جتنی بیوائیں ہیں ان میں سے کم از کم اسّی فیصد دو بارہ شادی کر سکتی ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کرتیں کیوں کہ یا تو ان کے دو تین بچے ہیں اور یا پھر ان پر ان کے خاندان کی ذمہ داری ہے۔

لیکن اس سے ایک بات صاف ہے کہ کشمیری خاتون کا کردار اس کے خاندان اور سماج میں تیزی سے بدل رہا ہے۔ وہ یا تو خاندان کی روزی روٹی میں مالی مدد فراہم کر رہی ہے یا پھر علیحدہ اپنے لواحقین کا پیٹ پالنے کے لیئے چار دیواری سے باہر نکل آئی ہے اور اپنی نئی پہچان بنا رہی ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیئے کام کرنے والی کارکن سیدہ افشاں کہتی ہيں کہ اب روایتی سوچ رکھنے والے خاندان ہوں یا سیاست سب ہی کو خواتین کی نئی پہچان کو سنجیدگي سے لینا پڑ رہا ہے۔

یہ تبدیلی کشمیر کی سڑکوں پر بھی نظر آرہی ہے۔ اپنے گمشدہ لواحقین کے بارے میں معلوم کرنے کےلیئے اب خواتین ہی پولیس والوں اور فوجی اہلکاروں کے پاس جاتی ہیں۔

احتجاجی مظاہروں میں بھی خواتین کی تعداد پہلے سے زیادہ ہونے لگی ہے۔ روایتوں اور جدید سچائيوں کے درمیان ایک الگ راستہ بناتی ہوئی ان کشمیری خواتین کی خواہشات کشمیر کے سیاسی اور سماجی مستقبل پر کیسی چھاپ جھوڑیں گی یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد