BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 January, 2007, 14:27 GMT 19:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیرمیں ملاقاتوں کا دورجاری

میرواعظ مولوی عمرفاروق
میرواعظ مولوی عمرفاروق نے دلی کو اپنا نمائندہ بھیجا ہے
ہندوستانی وزیرخارجہ پرنب مکھرجی کے مجوزہ دورہ پاکستان سے قبل بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف سیاسی دھڑوں میں خاصی سرگرمی پائی جارہی ہے۔

وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد اور کئی علیٰحدگی پسندرہنماوں نے وزیراعظم منموہن سنگھ اور کشمیر پر بھارتی مذاکرات کار نریندر ناتھ ووہرا کے ساتھ ملاقات کی ہے۔

مسٹر آزاد کے قریبی ساتھی اور مقامی کانگریس لیڈر عبدالغنی وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ مسٹر آزاد نے وزیر اعظم کو جموں کشمیر کے منقسم حصوں کے درمیان سیاحت اور تجارت کے شعبوں میں مشترکہ نظام کے علاوہ فوجی انخلا کی قابل عمل صورتوں سے آگاہ کیاہے۔

اس دوران سخت گیر اور اعتدال پسند علیٰحدگی پسندوں نے بھی پچھلے دو روز سے دلّی میں ڈیرہ جما رکھاہے۔ حریت کانفرنس کے دو سابق سربراہ سید علی شاہ گیلانی اور پروفیسر عبدالغنی بٹ نے بھارتی دورے پر آنے والے یورپی یونین کے وفد کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔

حریت کانفرنس کے ایک گروپ کے سربراہ میرواعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا نمائندہ کشمیر کے متعلق یورپی یونین کی رپورٹ میں بعض خامیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے دلی گیا ہوا ہے۔

حریت کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ پروفیسر غنی کی سربراہی میں حریت کے وفد نےمسٹر ووہرا کے ساتھ دو ملاقاتیں کیں ہیں۔ ان ملاقاتوں میں حریت کانفرنس کے دورہ پاکستان اور نئی دلّی کے ساتھ مذاکرات کے عمل کی بحالی پر غوروخوض ہوا۔

مسٹر فاروق نے ووہرا اور حریت وفد کے درمیان ملاقات کی تردید یا تصدیق نہ کرتے ہوئے بتایا ک ’ ہم تو سہ رُخی مذاکرات کے حامی ہیں۔‘

پروفیسر بٹ بھارتی اہل کارون سے ملاقات کر رہے ہیں

ہندوستانی وزیر خارجہ پرناب مکھرجی کے دورہ پاکستان کے بعد میرواعظ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد روانہ ہوگا۔

میرواعظ عمر فاروق کا کہنا ہے’ ہم وہاں جنرل مشرف کے ساتھ ان کے تازہ چار نکاتی فارمولہ پر گفت و شنید کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت، اپوزیشن اور کشمیر میں سرگرم مسلح جنگجوؤں کی قیادت کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

مسٹر فاروق کے مطابق حریت کا یہ وفد پاکستان کے لیے سترہ یا اٹھارہ جنوری کو روانہ ہوگا۔

دریں اثنا حریت سے باہر سرگرم علیٰحدگی پسند گروہ بھی متحرک ہوگئے ہیں۔ حریت کانفرنس سے علیٰحدہ ہونے والی پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون نے 'قابل حصول وطنیت‘ کے عنوان سے دو سو اڑسٹھ صفحات پر مشتمل ایک روڈ میپ جاری کردیا ہے۔

اس میں جموں کشمیر کے دونوں حصوں کو ایک دولت مشترکہ بناکر پورے خطے کی حاکمیت میں ہندوستان اور پاکستان کو برابر کا شریک بنایا جانا تجویز کیا گیا ہے۔
مسٹر لون نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ روڈمیپ ہندوستان اور پاکستان کے سربراہوں کو پیش کیا جائے گا۔

پرنب مکھرجی پاکستان میں قیام کے دوران جنرل مشرف کو اپریل میں مجوزہ سارک کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیں گے اور اپنے پاکستانی ہم منصب خورشید قصوری کے ساتھ ملاقات کے دوران مربوط مذاکرات کے تیسرے دور کی تیاری کا جائزہ لیں گے۔

گزشتہ برس نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ سمیت متعدد ہندنواز لیڈروں کے دورہ پاکستان کے بعد ان کے لہجہ میں نمایاں تبدیلی رونما ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد