BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 December, 2006, 13:28 GMT 18:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مزاحمت سے جنگلی حیات کا فائدہ‘

چیتا
چیتوں اور برفانی چیتوں دونوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اسی کی دہائی سے جاری علیحدگی پسندی کی تحریک کے نتیجے میں جنگلی حیات کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔

جموں اور کشمیر کے چیف وائلڈ لائف وارڈن نصیر احمد کچھلو کے مطابق جانوروں اور پرندوں کی تعداد میں بیس سے ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگلی حیات میں اضافے کی وجہ بہت سادہ سی ہے۔ علاقے میں عسکریت پسندی بڑھنے پر حکومت نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنا اپنا اسلحہ پولیس کے حوالے کر دیں تاکہ اس کا ناجائز استعمال نہ ہو سکے۔

دوسری طرف کوئی بھی اب اس خوف سے جنگلوں کے اندر جانے کی جرات نہیں کرتا کہ کہیں عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے

نصیر
’سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں میں تصادم کے ڈر سے جنگلوں کے اندر جانے کی کوئی جرات نہیں کرتا‘ نصیر کچھلو
تبادلے میں کوئی نقصان نہ اٹھا بیٹھے۔ ’ نتیجتاً شکار ان سالوں میں تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے‘۔

نصیر کچھلو کا کہنا تھا کہ یہ جنگلی حیات خصوصاً چیتے، برفانی چیتے، ہنگول (ایک بارہ سنگھا جو صرف کشمیر میں ہی پایا جاتا ہے) ، سپاٹڈ (دھبوں والا) ہرن اور پرندوں کی کئی قسموں کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ لیکن چیتوں اور ریچھوں کی تعداد میں کئی گنا اضافے ساتھ ساتھ لوگوں پر ان جانوروں کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے‘۔

جانوروں کی تعداد میں ہونے والے اضافے کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے نصیر کچھلو کا کہنا تھا کہ انیس سو نوے میں ہنگولوں کی تعداد سو سے ایک سو بیس کے درمیان تھی، جو اب بڑھ کر اڑھائی سو ہوگئی ہے۔

ریچھ
تعداد میں اضافے سے لوگوں پر ریچھوں اور چیتوں کے حملوں کے واقعات بھی بڑھے ہیں

’ اسی طرح چیتوں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے، جبکہ ہرنوں کی تعداد اب دو سے اڑھائی ہزار کے درمیان ہے جو انیس سو نوے میں اڑھائی سو سے تین سو کے درمیان تھی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگلی جانوروں کی باقاعدہ گنتی تو ممکن نہیں ہوتی لیکن سائنسی طریقہ کار بروئے کار لاتے ہوئے اس حوالے سے نتائج نکالے جاتے ہیں۔

نصیر کچھلو کے مطابق پیر پنجال پہاڑی سلسلے کی نایاب مارخور بکریوں کی تعداد انیس سو نوے میں سو سے ایک سو پچاس کے درمیان تھی، جو اب اڑھائی

کالا تیتر
کالے تیتر کی تعداد میں پچاس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
سو سے تین سو کے درمیان ہے۔ ’ کئی یورپی ممالک میں اس (مارخور) کا شکار شوق سے کھیلا جاتا ہے اور ایک مہم پر کم سے کم ایک لاکھ ڈالر خرچ ہوتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پرندوں کی گنتی کرنا تو اور بھی مشکل کام ہے لیکن کالے تیتر اور فیزنٹس کی تعداد میں کم از کم پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد