’مزاحمت سے جنگلی حیات کا فائدہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اسی کی دہائی سے جاری علیحدگی پسندی کی تحریک کے نتیجے میں جنگلی حیات کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ جموں اور کشمیر کے چیف وائلڈ لائف وارڈن نصیر احمد کچھلو کے مطابق جانوروں اور پرندوں کی تعداد میں بیس سے ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگلی حیات میں اضافے کی وجہ بہت سادہ سی ہے۔ علاقے میں عسکریت پسندی بڑھنے پر حکومت نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنا اپنا اسلحہ پولیس کے حوالے کر دیں تاکہ اس کا ناجائز استعمال نہ ہو سکے۔ دوسری طرف کوئی بھی اب اس خوف سے جنگلوں کے اندر جانے کی جرات نہیں کرتا کہ کہیں عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے
نصیر کچھلو کا کہنا تھا کہ یہ جنگلی حیات خصوصاً چیتے، برفانی چیتے، ہنگول (ایک بارہ سنگھا جو صرف کشمیر میں ہی پایا جاتا ہے) ، سپاٹڈ (دھبوں والا) ہرن اور پرندوں کی کئی قسموں کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ لیکن چیتوں اور ریچھوں کی تعداد میں کئی گنا اضافے ساتھ ساتھ لوگوں پر ان جانوروں کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے‘۔ جانوروں کی تعداد میں ہونے والے اضافے کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے نصیر کچھلو کا کہنا تھا کہ انیس سو نوے میں ہنگولوں کی تعداد سو سے ایک سو بیس کے درمیان تھی، جو اب بڑھ کر اڑھائی سو ہوگئی ہے۔
’ اسی طرح چیتوں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے، جبکہ ہرنوں کی تعداد اب دو سے اڑھائی ہزار کے درمیان ہے جو انیس سو نوے میں اڑھائی سو سے تین سو کے درمیان تھی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگلی جانوروں کی باقاعدہ گنتی تو ممکن نہیں ہوتی لیکن سائنسی طریقہ کار بروئے کار لاتے ہوئے اس حوالے سے نتائج نکالے جاتے ہیں۔ نصیر کچھلو کے مطابق پیر پنجال پہاڑی سلسلے کی نایاب مارخور بکریوں کی تعداد انیس سو نوے میں سو سے ایک سو پچاس کے درمیان تھی، جو اب اڑھائی
ان کا کہنا تھا کہ پرندوں کی گنتی کرنا تو اور بھی مشکل کام ہے لیکن کالے تیتر اور فیزنٹس کی تعداد میں کم از کم پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر: 17 سالوں میں کتنے ہلاک؟09 December, 2006 | انڈیا مسئلہ کشمیر: دھند چھٹنے والی ہے؟08 December, 2006 | انڈیا کشمیر، فوج اور ایڈز کا خطرہ01 December, 2006 | انڈیا کشمیر: فوجیوں سمیت چھ ہلاک25 November, 2006 | انڈیا کولیرو جھیل، روزی کا مسئلہ07 July, 2006 | انڈیا جنگلی حیات کا بچاؤ اور مالی مفادات03 October, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||