BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 July, 2006, 23:29 GMT 04:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کولیرو جھیل، روزی کا مسئلہ

کولیرو جھیل نو سو مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے
ایشیا میں تازہ پانی کی بڑی جھیلوں میں سے ایک کولیرو آندھرا پردیش کے دو ساحلی ضلعوں مغربی گوداوری اور کرشنا میں 900 مربع کیلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ خلیج بنگال کے ساحل پر واقع یہ عظیم الشان جھیل گـزشتہ چار دہوں سے موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا تھی لیکن اب طویل عرصہ کے بعد اسے کھل کر سانس لینے کا موقع ملا ہے۔

سپریم کورٹ کے احکامات کو روبہ عمل لاتے ہوئے ریاستی حکومت نے اس جھیل میں غیرقانونی طور پر بنائے گئے مچھلی پالنے کے تالابوں کو منہدم کردیا ہے۔ تین مہینے تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں ایک ہزار سات سو فش ٹینکس کو منہدم کیا گیا اور اس کے لیے بعض مقامات پر دھماکو اشیاء بھی استعمال کی گئیں۔

اس طرح جھیل کی 44 ہزار ایکڑ زمین کو واپس حاصل کیا گیا اور پانی کے آسانی کے ساتھھ بہاؤ کا راستہ کھولا گیا۔ یہ کارروائی جھیل کی اصلی حالت کو بحال کرنے اور اس کے ماحول کا تحفظ کرنے کے منصوبے کے تحت کی گئی۔

ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ جھیل صدیوں سے سائبیریا اور دنیا کے دوسرے حصوں سے آنے والے پرندوں کی پسندیدہ منزل تھی اور یہ جھیل سینکڑوں قسم کی مچھلیوں، آبی جانداروں اور پرندوں کی آماجگاہ تھی لیکن جب سے وہاں تجارتی پیمانے پر مچھلی پالنے کا سلسلہ شروع ہوا تب سے وہاں کا ماحول تباہ ہوگیا۔ جھیل کی اصلی حالت کو بحال کرنے کے مقصد سے حکومت نے اس علاقے کو پرندوں کی محفوظ پناہ گاہ بھی قرار دے دیا تھا۔

پرندوں کی محفوظ پناہ گاہ
 یہ جھیل صدیوں سے سائبیریا اور دنیا کے دوسرے حصوں سے آنے والے پرندوں کی پسندیدہ منزل تھی اور یہ جھیل سینکڑوں قسم کی مچھلیوں، آبی جانداروں اور پرندوں کی آماجگاہ تھی لیکن جب سے وہاں تجارتی پیمانے پر مچھلی پالنے کا سلسلہ شروع ہوا تب سے وہاں کا ماحول تباہ ہوگیا۔ جھیل کی اصلی حالت کو بحال کرنے کے مقصد سے حکومت نے اس علاقے کو پرندوں کی محفوظ پناہ گاہ بھی قرار دے دیا تھا۔
فش ٹینکس کے خلاف کارروائی کی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ پانی کے بہاؤ کا راستہ نہ ملنے کی وجہ سے جھیل کے بالائی علاقوں میں ہر سال بڑے پیمانے پر سیلاب آرہا تھا اور لاکھوں ایکڑ پر پھیلی فصلوں کو نقصان پہنچ رہا تھا۔

مچھلی کے تالابوں کو ہٹانے کی کارروائی انتظامیہ کے لیے بھی آسان نہیں تھی کیونکہ ان تالابوں کی بڑی تعداد سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں کی ملکیت تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی انہدامی کارروائیوں کے خلاف سرکاری عہدیداروں کو ڈرانے دھمکانے کے واقعات بھی پیش آئے لیکن بالآخر سپریم کورٹ کی مقررہ حد کے اندر یہ کام مکمل کرلیا گیا۔

لیکن اب جہاں ماہرین ماحولیات اور سرکاری عہدیدار اپنی اس کامیابی پر خوش ہیں وہیں غیرسرکاری تنظیمیں اور مقامی لوگ بے حد ناراض اور برہم ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ مچھلی کے تالابوں کی برخاستگی سے دیڑھ لاکھ لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے اور ان دونوں ضلعوں کی معیشت پر تباہ کن اثر پڑا ہے۔

ریاست کی ایک بڑی غیر سرکاری تنظیم لوک ستہ کے سربراہ اور سابق آئی اے ایس آفیسر جے پرکاش نارائن کا کہنا ہے کہ حکومت نے نتائج کے بارے میں غور کیے بغیر اور متاثر ہونے والے لوگوں کی آبادکاری کے بارے میں سوچے بغیر یہ کارروائی کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جھیل کی جو زمینیں حکومت نے واپس لی ہیں ان میں بیس ہزار ایکڑ زمین لوگوں کی نجی ملکیت اور دس ہزار ایکڑ زمین خود حکومت کی فراہم کردہ تھی۔ متاثر ہونے والوں میں اکثریت دلتوں اور دوسرے کمزور طبقات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونا حکومت کو کسی کی بھی زمین لینے کا اختیار ہے لیکن ان کو معاوضہ ادا کیا جانا چاہیے-

جے پرکاش نارائن نے اس بات کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ جس علاقے سے لوگوں کو ہر سال چھ سو تا سات سو کروڑ روپۓ کی آمدنی ہوتی تھی، اس کے لیے متاثرہ خاندانوں کو حکومت دس کروڑ روپۓ کا معاوضہ دینے کی بات کررہی ہے۔ انہوں نے اسے انتہائی غیرجمہوری اور عوام دشمن حرکت قرار دیا اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت متاثرین کی آبادکاری کے لیے قدم اٹھائے۔

 جس علاقے سے لوگوں کو ہر سال چھ سو سے سات سو کروڑ روپۓ تک کی آمدنی ہوتی تھی، اس کے لیے متاثرہ خاندانوں کو حکومت دس کروڑ روپۓ کا معاوضہ دینے کی بات کررہی ہے۔
جے پرکاش نارائن
اقوام متحدہ کے غذا اور زراعت سے متعلق ادارے ایف اے او کے سابق مشیر اور ماہی گیری کے صنعت کے ایک ماہر ڈاکٹر پارتھا سارتھی کا کہنا ہے کہ حکومت کی اس کارروائی سے صرف مچھلی پالنے کی صنعت ہی نہیں بلکہ اس سے جڑی کئی دوسری صنعتیں بھی تباہ ہوگئی ہیں جن میں برف بنانے کی فیکٹریاں، مچھلیوں کی غذا فراہم کرنے والی کمپنیاں اور ٹرانسپورٹ کمپنیاں شامل ہیں کیونکہ کولیرو جھیل میں پیدا ہونے والی مچھلی ملک کی کئی ریاستوں کو برآمد ہوتی تھی۔

ان کا اندازہ ہے کہ کل ملا کر اس علاقے کی سالانہ معیشت ڈھائی ہزار کروڑ روپۓ کی تھی جو اب باقی نہیں رہی۔ سب سے زیادہ برا اثر ان 122 مواضعات پر پڑا ہے جو اس جھیل کے بیچ میں پھیلے ہوئے ہیں۔

پارتھا سارتھی کا کہنا تھا کہ مچھلی پالنے کے تمام تالاب غیرقانونی نہیں تھے بلکہ خاصی تعداد ان لوگوں کے تالابوں کی تھی جنہیں 1975 ء میں حکومت نے ماہی گیری کی حوصلہ افزائی کے لیے زمین فراہم کی تھی۔

پارتھا سارتھی کا کہنا تھا کہ ابتدا میں مقامی لوگ چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری کیا کرتے تھے لیکن جب اس میں زیادہ منافع ہونے لگا تو بڑے بڑے بیوپاری اور سیاسی لیڈر بھی اس میں کود پڑے اور انہوں نے بڑے بڑے فش ٹینکس تعمیر کرڈالے -

جے پرکاش نارائن اور پارتھا سارتھی دونوں اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ مچھلی کے تالابوں کی وجہ سے وہاں کا ماحول خراب ہوا تھا یا وہ سیلاب کا سبب بن رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس راستے سے پانی بہہ کر سمندر تک پہنچتا ہے اسے صاف نہ کرنے کے نتیجے میں سیلاب آرہا تھا۔

جہاں حکومتی عہدیدار مطمئن ہیں کہ انہوں نے جھیل کی صفائی کا کام مکمل کرلیا ہے وہیں مقامی عوام میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ان کی بازآبادکاری اور متبادل روزگار کے لیے جلد قدم نہیں اٹھاتی ہے تو یہ لاوا پھوٹ سکتا ہے۔

اسی بارے میں
دل کے لیے دل سے کوششیں
20 December, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد