بارش، جھیلوں کے شہر کا دردِ سر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راجستھان جیسے خشک علاقے میں ایک اچھے مون سون کا آنا ایک بڑی خوشی کی خبر ہے جس دوران جشن منائے جاتے ہیں۔ لیکن ادے پور کے لیے، جسے جھیلوں اور پریوں کے محلات کے شہر سے جانا جاتا ہے، اس سال اوسط درجے سے زیادہ ہونے والی بارشیں دردِ سر بنی ہوئی ہیں۔ گزشتہ دہائی میں پہلی مرتبہ ادے پور کی مردہ جھیلوں میں جان آ گئی ہے لیکن وہ پانی سے اتنی بھر گئی ہیں کہ اب پانی تیزی سے ان میں سے رسنا شروع ہو گیا ہے۔ ادے پور لیک پروٹیکشن سوسائٹی کے ترجمان انیل مہتا کہتے ہیں کہ مشہور پچھولا جھیل میں پڑنے والی دراڑوں سے روزانہ دس ملین لیٹر پانی خارج ہو رہا ہے۔ پچھولا جھیل کے بیچوں بیچ سنگِ مرمر کا مشہور سفید محل ہے جو سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔ مہتا نے کہا کہ اگر پانی اسی طرح سے خارج ہوتا رہا تو اگلے سال تک جھیل بالکل خشک ہو جائے گی۔ لیکن بری خبر یہ ہے کہ اب پانی شہر کے دوبارہ بنائے گئے پانی کی نکاسی کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔
سوسائٹی کے ممبران نے کہا کہ کئی ایسی جگہیں ہیں جہاں پانی گٹروں میں داخل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق جب یہاں پانی پوری طرح بھر جاتا ہے تو باہر نکلنا شروع کر دیتا ہے۔ کہیں کہیں یہ پانی پینے کے پانی میں بھی شامل ہو رہا ہے اور اسے آلودہ کر رہا ہے۔ ادے پور میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شہر میں آلود پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ایک ڈاکٹر تیج رازدان کے مطابق شہر کے ایک علاقے نیاپور میں کئی افراد کو یرقان اور ٹائیفائیڈ ہو گیا ہے اور یرقان سے ایک بچے کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
ادے پور شہر کی انتظامیہ کے نئے سربراہ ضلعی مجسٹریٹ شیکھر اگروال اس کا ذمہ دار ’سالوں کی بدانتظامی‘ کو ٹھہراتے ہیں اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ جھیل سے رسنے والے پانی کو روکنے کے لیے انڈیا کے دوسرے علاقوں سے بھی ماہرین ادے پور آئیں۔ ڈاکٹر رازدان کا کہنا ہے کہ شہری انتظامیہ کا خیال تھا کہ جھیل کبھی بھی پانی سے نہیں بھرےگی۔ ’انہوں نے جھیل کو کھود کر پانی کے نکاس کے پائپ بچھائے لیکن ان کی مرمت درست طریقے سے نہیں کی‘۔
شہری انتظامیہ ٹھیکے داروں پر یہ الزام بھی لگاتی ہے کہ انہوں سیویج بچھاتے ہوئے غیر معیاری میٹیریل استعمال کیا تھا۔ ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ کے مطابق انتظامیہ نے اس ٹھیکے دار کے خلاف مقدمہ بھی درج کروایا ہے جس کو یہ پروجیکٹ دیا گیا تھا۔ ادے پور میں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر غیر ملکی ہوتے ہیں اور یہ تاریخی شہر صرف سیاحت سے ہر سال 250 ملین ڈالر کماتا ہے۔ ڈاکٹر رازدان سیاحوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ پینے کے لیے صرف مشہور برانڈ کا پینے کا پانی استعمال کریں۔ | اسی بارے میں تاج محل جھک رہا ہے: ماہرین21 October, 2004 | انڈیا راجستھان میں کرائے کے باراتی17 September, 2005 | انڈیا راجستھان، بلیئر من موہن ملاقات 08 September, 2005 | انڈیا راجستھان کے تین’ گاف‘ 18 April, 2004 | انڈیا پڑھ پڑھ کر جیوں گا16 April, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||