BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 January, 2006, 12:36 GMT 17:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارش، جھیلوں کے شہر کا دردِ سر

ادے پور
ادے پور کی خواتین ایک جھیل پر کپڑے دھو رہی ہیں
راجستھان جیسے خشک علاقے میں ایک اچھے مون سون کا آنا ایک بڑی خوشی کی خبر ہے جس دوران جشن منائے جاتے ہیں۔ لیکن ادے پور کے لیے، جسے جھیلوں اور پریوں کے محلات کے شہر سے جانا جاتا ہے، اس سال اوسط درجے سے زیادہ ہونے والی بارشیں دردِ سر بنی ہوئی ہیں۔

گزشتہ دہائی میں پہلی مرتبہ ادے پور کی مردہ جھیلوں میں جان آ گئی ہے لیکن وہ پانی سے اتنی بھر گئی ہیں کہ اب پانی تیزی سے ان میں سے رسنا شروع ہو گیا ہے۔

ادے پور لیک پروٹیکشن سوسائٹی کے ترجمان انیل مہتا کہتے ہیں کہ مشہور پچھولا جھیل میں پڑنے والی دراڑوں سے روزانہ دس ملین لیٹر پانی خارج ہو رہا ہے۔

پچھولا جھیل کے بیچوں بیچ سنگِ مرمر کا مشہور سفید محل ہے جو سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔

مہتا نے کہا کہ اگر پانی اسی طرح سے خارج ہوتا رہا تو اگلے سال تک جھیل بالکل خشک ہو جائے گی۔

لیکن بری خبر یہ ہے کہ اب پانی شہر کے دوبارہ بنائے گئے پانی کی نکاسی کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔

جھیل میں پانی کی نکاسی کا نظام
پچھولا جھیل میں پانی کی نکاسی کے نظام میں کئی خرابیاں بتائی جاتی ہیں

سوسائٹی کے ممبران نے کہا کہ کئی ایسی جگہیں ہیں جہاں پانی گٹروں میں داخل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق جب یہاں پانی پوری طرح بھر جاتا ہے تو باہر نکلنا شروع کر دیتا ہے۔ کہیں کہیں یہ پانی پینے کے پانی میں بھی شامل ہو رہا ہے اور اسے آلودہ کر رہا ہے۔

ادے پور میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شہر میں آلود پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ایک ڈاکٹر تیج رازدان کے مطابق شہر کے ایک علاقے نیاپور میں کئی افراد کو یرقان اور ٹائیفائیڈ ہو گیا ہے اور یرقان سے ایک بچے کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

ریشماں خان
ریشماں خان جن کا چھوٹا بچہ یرقان کی وجہ سے ہلاک ہو گیا

ادے پور شہر کی انتظامیہ کے نئے سربراہ ضلعی مجسٹریٹ شیکھر اگروال اس کا ذمہ دار ’سالوں کی بدانتظامی‘ کو ٹھہراتے ہیں اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ جھیل سے رسنے والے پانی کو روکنے کے لیے انڈیا کے دوسرے علاقوں سے بھی ماہرین ادے پور آئیں۔

ڈاکٹر رازدان کا کہنا ہے کہ شہری انتظامیہ کا خیال تھا کہ جھیل کبھی بھی پانی سے نہیں بھرےگی۔ ’انہوں نے جھیل کو کھود کر پانی کے نکاس کے پائپ بچھائے لیکن ان کی مرمت درست طریقے سے نہیں کی‘۔

ادے پور جھیل
ادے پور جھیل میں بچے نہا رہے ہیں

شہری انتظامیہ ٹھیکے داروں پر یہ الزام بھی لگاتی ہے کہ انہوں سیویج بچھاتے ہوئے غیر معیاری میٹیریل استعمال کیا تھا۔ ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ کے مطابق انتظامیہ نے اس ٹھیکے دار کے خلاف مقدمہ بھی درج کروایا ہے جس کو یہ پروجیکٹ دیا گیا تھا۔

ادے پور میں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر غیر ملکی ہوتے ہیں اور یہ تاریخی شہر صرف سیاحت سے ہر سال 250 ملین ڈالر کماتا ہے۔

ڈاکٹر رازدان سیاحوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ پینے کے لیے صرف مشہور برانڈ کا پینے کا پانی استعمال کریں۔

اسی بارے میں
پڑھ پڑھ کر جیوں گا
16 April, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد