BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 September, 2005, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راجستھان میں کرائے کے باراتی
شادی
’بھارت میں کرائے کے باراتیوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے‘
بھارتی ریاست راجستھان میں ایک انوکھی ایجنسی قائم کی گئی ہے جو شادی میں کرائے کے باراتیوں کا انتظام کرے گی۔

راجستھان میں شادیوں میں زیادہ مہمانوں کا شرکت نہ کرنا باعثِ شرم سمجھا جاتا ہے اور اسی شرمندگی سے لوگوں کو بچانے کے لیے جودھ پور میں ’بیسٹ گیسٹ سنٹر‘ نامی یہ ایجنسی بنائی گئی ہے۔

اس ایجنسی کے بانی ایم آئی سید کا کہنا ہے کہ انہیں یہ ایجنسی بنانے کا خیال اس وقت آیا جب ان کے دوست نے ایک محتلف ذات کی عورت سے شادی کی۔ دولہا کے گھر والے اس شادی کے مخالف تھے اس لیے بارات میں صرف پانچ لوگ آئے۔

ایم سید نے کہا کہ ’ میں نے سوچنا شروع کیا کہ اگر ہم اس وقت وہاں کچھ مزید لوگ جمع کر لیتے تو اچھا وقت گزرتا اور میرا دوست بھی بہتر محسوس کرتا۔ اس طرح مجھے اس کاروبار کا خیال آیا‘۔

 راجستھان میں شادیوں میں زیادہ مہمانوں کا شرکت نہ کرنا باعثِ شرم سمجھا جاتا ہے

اس وقت اس ایجنسی کے پاس 70 کے قریب لوگ رجسٹرڈ ہیں۔ یہ لوگ موقع کی مناسبت سے روایتی یا مغربی لباس میں ملبوس ہو کر موقع پر آ سکتے ہیں۔ ان لوگوں کو دولہا اور دلہن کے خاندانوں کے بارے میں بریفنگ دی جاتی ہے اور یہ تقریب کے دوران اپنے آپ کو دلہا یا دلہن کا عزیز ظاہر کرتے ہیں۔

ایم آئی سید کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے پاس موجود باراتی’ بہترین تربیت یافتہ ہیں اور ہم انہیں دلہا اور دلہن کے خاندان سے متعلق ہر پہلو پرمعلومات مہیا کرتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ’یہی وجہ ہے کہ ابھی تک میں نے دس شادیوں میں کرائے کے باراتی بھیجے میں اور ایک مرتبہ بھی ان کی نشاندہی نہیں ہو سکی‘۔

ایجنسی کے مالک کا کہنا ہے کہ کرائے کے باراتیوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ خاندانوں کے بیچ جھگڑے اور دوردراز رہنے والے رشتہ داروں سے تعلقات میں کمی ہے۔

تربیت یافتہ باراتی
 باراتی بہترین تربیت یافتہ ہیں اور ہم انہیں دلہا اور دلہن کے حاندان سے متعلق ہر پہلو پرمعلومات مہیا کرتے ہیں
ایم آئی سید

انہوں نے کہا کہ ’ اگر آپ کی شادی میں بہت سے مہمان ہوں تو لوگ آپ کو معاشرے میں زیادہ معزز تصور کرتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ زیادہ سفر کرنا برداشت نہیں کر سکتے یا پھر ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ شادیوں میں شرکت کریں۔ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ہماری ضرورت پڑتی ہے‘۔

ایجنسی کے پاس موجود کرائے کے باراتیوں میں ڈاکٹر، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور دیگر پروفیشنل حضرات کے علاوہ طلباء بھی شامل ہیں۔

ایم آئی سید کا کہنا ہے کہ ’ آپ حیران ہوں گے کہ ڈاکٹر کیوں کرائے کے باراتی بننا چاہتے ہیں۔ دراصل وہ ایک اچھی شام گزارنا چاہتے ہیں اور ہم انہیں اس کا اچھا معاوضہ بھی دیتے ہیں‘۔

ایجنسی مختلف افراد سے باراتی مہیا کرنے کا مختلف معاوضہ وصول کرتی ہے اور اس کا انحصار مہمانوں کی تعداد اور ان کی خوش لباسی پر ہوتا ہے۔

مذکورہ ایجنسی اس سلسلے میں تین درجات میں خدمات مہیا کرتی ہے۔ بہترین باراتی کا فی کس کرایہ چھ سو روپے ہے جس کےعوض سوٹ میں ملبوس، طویل القامت،گوری رنگت کے مالک اور بہترین گفتگو کرنے والے باراتی مہیا کیے جاتے ہیں۔

ایم آئی سید کا کہنا ہے کہ راجستھان کے علاوہ بنگلور، کلکتہ اور دبئی سے بھی لوگ کرایے کے باراتیوں کے لیے ان سے رابطہ کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد