والدین کی حفاظت کے لیے قانون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں جلد ہی ایک ایسا قانون بنےگاجس کے تحت بچے اپنے ضعیف والدین کو ذہنی اور جسمانی اذیت نہیں دے سکیں گے کیونکہ ایسا کرنے والے بچے قانون کی گرفت میں ہوں گے اور جرم ثابت ہونے پرانہیں جیل کی ہوا بھی کھانی پڑ سکتی ہے۔ دنیا کے ہر بڑے ملک میں اس طرح کا قانون موجود ہے لیکن بھارت میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا قانون ہو گا۔ وزیر برائے سماجی بہبود چندر کانت ہنڈورے نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی کہ ان کا محکمہ اس طرح کا بل بنانے کی تیاری کر رہا ہے اوراس وقت مجوزہ بل حکومت کے قانونی ماہرین کے سامنے ہے جو اس کے ہر پہلو پر غور کر رہے ہیں ۔ مسٹر ہنڈورے نے اس بات سے انکار کیا کہ ممبئی میں تنہا رہنے والے معمر افراد کے قتل میں اضافہ کی وجہ سے یہ قانون بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے سماجی اقدار میں تبدیلی آئی ہے اب مشترکہ خاندان کا چلن ختم ہوتا جا رہا ہے اور بچے شادی کے بعد بوڑھے والدین کو چھوڑ کراپنا الگ گھر بسا لیتے ہیں ۔ اس لئے بل میں ایک شرط یہ رکھی گئی ہے کہ اگر بچے والدین کو اپنے سے الگ کر دیتے ہیں تو انہیں اپنی تنخواہ کا ایک حصہ انہیں دینا ہو گا ۔ نامور ایڈوکیٹ مجید میمن کے خیال میں اس قانون کے بننے کے بعد معاشرہ پر کافی فرق پڑ سکتا ہے۔انکے مطابق بچے والدین کو پریشان کرنے سے پہلے کئی بار غور کرنے پر مجبور ہوں گے کیونکہ ابھی اس طرح کے معاملات ناقابل تعزیر جرم قرار دیئے جاتے ہیں۔ ضابطہ فوجداری کے مطابق اگر بچے والدین کا خیال نہیں رکھتے ہیں تو ان کے خلاف دفعہ ایک سو پچیس کے تحت کیس درج ہو جاتا ہے اور عدالت سے انہیں انصاف ملتا ہے۔ ممبئی میں معمر افراد کے لئے دس سال قبل ’ڈگنٹی فاؤنڈیشن‘ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس کی صدر شیلو سری نواسن حکومت کی اس تجویز سے خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دیر سے سہی لیکن مہاراشٹر حکومت نے پہل تو کی ۔انہوں نے بتایا ہمارے پاس روزانہ ایسے والدین کے تقریبا دس فون آتے ہیں اور تنظیم کے رضاکار ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت کو قانون بنانے سے پہلے اچھی طرح ریسرچ کرنی ہو گی کیونکہ ہمارے یہاں کے مسائل دیگر ممالک سے مختلف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممبئی میں اس قانون کے بننے کے بعد سے بوڑھے والدین کو کافی راحت مل سکتی ہے کیونکہ یہاں اکثر ایسے کیس ہوتے ہیں جن میں بچوں کی جانب سے دی جانے والی اذیت سے گھبرا کر والدین یا تو خودکشی کرنے کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں یا پھر اولڈ ایج ہوم پہنچ جاتے ہیں ۔ دو سال قبل ممبئی میں کیمپس کارنر علاقہ میں اپنے بیٹے بہو کی جانب سے اذیت دیئے جانے سے گھبرا کر بال کرشن دلال کے والدین نے آٹھویں منزل پر واقع اپنے فلیٹ سے کود کر جان دے دی تھی ۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ مردم شماری رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے سات کروڑ چوسٹھ لاکھ ضعیف افراد ہیں جن میں سے گیارہ فیصد تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ممبئی میں تنہا رہنے والے معمر افراد کے قتل کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اس لئے مسز سری نواسن کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس جانب بھی دھیان دینا چاہیئے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||