| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپنی بیوی، اپنا گھر
کلکتہ ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ شوہر کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے والدین کے ساتھ رہنے پر مجبور کر سکے۔ ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ کے دو ججوں جسٹس اجوئے ناتھ اور جسٹس پرادپتو رائے نے یہ فیصلہ کلکتہ میں اس درخواست پر سنایا جو کاکولی داس نامی ایک متوسط طبقے کی گھریلو عورت کی نے دائر کی تھی۔ فیصلے کے مطابق کاکولی کے شوہر اشیس گھوس کو اب تمام ضروری انتظامات کرنے ہوں گے تاکہ اس کی بیوی اس کے والدین سے علیحدہ اپنے شوہر کے ساتھ رہ سکے۔ کاکولی داس کی اپنے شوہر سے انیس سو چورانوے میں شادی ہوئی تھی اور انیس سو چھیانوے میں اس نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ تاہم بیٹے کی پیدائش کے کچھ ہی عرصہ بعد اس کے تعلقات اپنے سسرال سے بگڑ گئے اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ علیحدہ رہنا چاہتی تھی۔ جب اشیس گھوس اس پر رضامند نہیں ہوا تو اس نے اس سلسلے میں نچلے درجے کی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ تاہم عدالت نے بھی اس کے حق میں فیصلہ نہیں دیا جس پر اس نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ اشیس گھوس کا کہنا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گا۔ تاہم اگر سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تو یہ بھارت کی عدلیہ کی تاریخ کے چند اہم ترین فیصلوں میں شمار ہوگا۔ قانونی ماہرین کے مطابق بھارتی معاشرے میں، جہاں مردوں کی اجارہ داری ہے، یہ فیصلہ گھریلو تعلقات کی بہتری کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||