BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 May, 2005, 14:18 GMT 19:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوڑوں کے لئے تربیتی ادارے

میگھا چوپڑا
کورس کرنے سے مجھے ایسا لگا میں نے اپنے آپ کو دوبارہ تلاش کیاہے: میگھا چوپڑا
جدید طرز زندگی کے نئے نئے تق‍اضے ہیں اور اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے نوجوان نت نئی کوششیں بھی کرتے رہتے ہیں۔ آج کل کی تیز رفتار زندگی کے تقاضوں سے نمٹنے کے لیے شادی سے پہلے دولہا اور دلہن کی تربیت کے لیے آج کل بہت سے انسٹی ٹیوٹ دستیاب ہیں۔ اور شادی سے قبل بہت سے نوجوان ان اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

انسانی رشتوں میں میاں بیوی کا رشتہ ایک انوکھا بندھن ہے۔ مشرقی تہذیب میں اسے دو روحوں کے ملن سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیکن مغرب کی طرح ہندوستان میں بھی اب میاں بیوی کے درمیان جھگڑا، تشدد اور طلاق ایک عام بات ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ شادی شدہ زندگی کے تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے ملک کے بڑے شہروں میں ایسے تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں جہاں شادی سے پہلے ہی دولہا دلہن کو تربیت دی جاتی ہے۔

پوروش کمار
طرح کی تعلیم سے شخصیت نکھر جاتی ہے: پوروش کمار

میگھا چوپڑا چار سالہ بچی کی ماں ہیں اور ایک سافٹ ویر کمپنی کی مینجر بھی۔ انہوں نے شادی سے قبل اور شادی کے بعد دلی کے مہر بسین پرسنالٹی ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ سے تربیت حاصل کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم میں بہت سے یہ جانتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ لیکن یہ نہیں معلوم کہ کیسے کرنا ہے اوراس طرح کے کورسز سے یہی سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

وہ کہتی ہیں ’ہمارا تعلیمی نظام بہت ہی آزادانہ ہے لیکن سسرال میں مختلف ماحول ہوتا ہے۔ شوہر، ساس سسر، بچے اور دیگر لوگوں کے ساتھ اپنے پیشے کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اسکے لیے ٹائم مینجمنٹ ضروری ہے۔ میں نے انسٹی ٹیوٹ میں کئی نئے طور طریقے سیکھے تھے۔ اس اعتماد بڑھا اور ایسا لگا میں نے اپنے آپ کو دوبارہ تلاش کیاہے۔ آج میں ایک کامیاب بیوی، سوفٹ ویئر کمپنی کی مینجر اور ایک اچھی ماں ہوں۔‘

ایک دوسرے نوجوان پوروش کمار نے مہر بسین اور ایلیٹ دونوں اداروں میں تربیت لی ہے۔ وہ شادی کرنے والے ہیں ۔ان کا کہتے ہیں ’اس طرح کی تعلیم سے شخصیت نکھر جاتی ہے اور شادی شدہ زندگي کے علاوہ اسکا استعمال روزمرہ کی زندگی میں بھی ہوسکتا ہے۔ میں نے اس کورس پر کافی پیسے خرچ کیے ہیں۔ لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ میری شخصیت کو تراش خراش کر سنوار دیاگیا ہے۔اب میں اعتماد سے پر ہوں ۔ لوگ کہتے ہیں کہ میرے برتاؤ میں بہتری آئی ہے اور مین بہت خوش ہوں۔‘

مہر بسین ادارے کی مینجر اور استانی سپریت کہتی ہیں کہ ٹرینگ کا مطلب شخصیت نکھارنا ہے۔ اس بات پر زوردیا جاتا ہے کہ آپسی رشتوں کی اہمیت کیا ہے اور دوسروں کے تئیں رویہ کیسا ہو ۔ وہ کہتی ہیں ’ آج کے سماج میں دوسروں کو سمجھنا اور حالات کے مطابق حکمت عملی اپنا ضروری ہے۔ بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو بہتر طور پیش کرسکیں اور اس معاملے میں ہم انکی مدد کرتے ہیں۔ انکی کمزوریاں ، طاقت، انکی خامیوں سے اور خوبیوں سے انہیں آگاہ کیا جاتا ہے۔‘

ایک نئے طالب علم راہل کا کہنا ہے ’ہر روز سننے کو ملتا ہے کہ زندگی میں سکون نہیں ہے۔ تناؤ زیادہ ہے اور گھریلو زندگی میں پریشانیاں آتی ہیں۔ انہیں وجوہات کے سبب یہ کورس کررہا ہوں۔ جن باتوں کی ذہن میں تشویش تھی اسے میں یہاں آئینے میں دیکھ رہا ہوں اور اب مجھے بہت اعتماد ہے کہ میں اپنی زندگی مزید لطف اندوز بنا سکتا ہوں۔ ہم سب یہی چاہتے ہیں۔ لیکن اس طرح کے ادارے ہماری آنکھیں کھولتے ہیں۔‘

جدید طرز زندگی کے اپنے مطالبے ہیں اور جیسے ہر شعبے میں بہتر کار کردگی کے لیے پیشہ وارنہ تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے اب بیوی نمبر ون اور شوہر دی گریٹ بننے کے لیے انسٹی ٹیوٹز کھل رہے ہیں۔ بدلتے معاشرے میں یہ جہاں وقت کی ایک ضرورت ہے وہیں تجارت کا یہ ایک نیا زریعہ بھی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد