BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 December, 2006, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر، فوج اور ایڈز کا خطرہ

بھارتی فوجی
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوجیوں کی بڑی تعداد ایڈز بڑھنےکا سبب ہے
ہندوستان کےزیرانتظام کشمیرمیں نو سو اکتیس افراد ایڈز کےمرض میں مبتلا ہیں اور اب تک سینتیس شہری اس بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایڈز کےخلاف تحریک کے عالمی دن کے موقع پرسرکاری حکام نے جمعہ کے روز اعدادوشمار جاری کیئے ہیں۔

کشمیر کو نسبتاً کم ایڈز والا خطہ سمجھا جاتا ہے لیکن لاکھوں کی تعداد میں فوجیوں کی موجودگی کو یہاں ایڈز کے پیھلاؤ میں اہم محرک سمجھا جارہا ہے۔

حکومت کے زیر اثر ایڈز کنٹرول سوسائٹی کے سربراہ ڈاکٹر ایم اے وانی نے بتایا کہ کشمیر میں فی الوقت نو سواکتیس افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں جس میں سے پچانوے افراد بیماری کے آخری مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔

جموں کشمیر میں بعض سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ وادی میں بھاری فوجی تعداد کی موجودگی سے کشمیر میں دوسری جگہوں سے ایڈز درآمد ہو رہا ہے ۔

سرینگرمیڈیکل کالج میں ایڈز کی دیکھ بھال کے لیے مخصوص شعبے سے وابستہ ڈاکٹر جاوید احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ سیکورٹی فورسز اور ٹرک ڈرائیور ایڈز کے ہائی رسک گروپ میں آتے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اس سال نومبر میں فوجی دستوں کے تیرہ اہلکاروں کی جانچ کے دوران ایچ آئی وی پازیٹیو پایا گیا تھا۔

سرینگرمیں تعینات سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ڈاکٹر اومیش شنکر ورما نے بتایا کہ 'فورسز میں ہم جنس پسندی کا رجحان زیادہ ہے جو ایڈز کی وجہ بھی بنتا ہے۔،

جموں کشمیر پولیس کے ایس ایس پی عاشق حسین بخاری کہتے ہیں کہ 'فوجی اہلکاروں کو ہردو ماہ کے بعد چھُٹی ملنی چاہیے تاکہ انکا بیوی بچوں کے ساتھ تعلق برقرار رہ سکے۔،

نوجوان صحافی ایم فاروق شاہ کا کہنا ہے کہ 'لاکھوں افواج کی موجودگی اس بات کا عندیہ ہے کہ ایڈز کے حوالے سے کشمیر ایک ڈینجر زون بن چکا ہے۔،

وادی کے سب سے جدید ہسپتال شیرکشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز میں امیونولوجی کے سربراہ ڈاکٹر مشتاق صدیقی کہتے ہیں کے ان کے شعبے میں انیس سو چھیاسی سے اس سال اگست تک دس ہزار افراد کی ایڈز جانچ کی گئی ہے ۔

اس میں سے پچانوے افراد ایڈز کے وائرس سے متاثر پا ئے گئے۔ 'لیکن ان میں سے انسٹھ فوجی اہلکار تھے۔‘

انسٹی ٹیوٹ کے ریکارڑ کے مطابق ایڈز میں مبتلا افراد کی اکثریت فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہے۔

دریں اثنا جمعیت اہل حدیث نامی ایک مذہبی تنظیم نے یوم ایڈز کے موقعہ پر سرینگر میں علماء دین اور ائمہ مساجد کے لیے ایک تربیتی پروگرام کا انعقاد کیاہے۔ اس موقع پر ماہرین نے انہیں ایڈز کے بارے میں آگاہ کیا۔

اس پروگرام سے وابستہ ایک رضاکار محمد انور نے بی بی سی کو بتایا کہ ' کشمیر میں خواندگی کی شرح صرف چھپن فی صد ہے اور پھر دور دراز علاقوں میں میڈیا کی پہنچ بھی نہیں لیکن مسجد کشمیر میں ہفتہ وار اجتماع کا مرکز ہوتی ہے۔ اور خطیب کو سب لوگ سنتے ہیں اگر یہ لوگ ایڈز کے خلاف تحریک میں حصہ لیں تو عام لوگوں کو احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہ کرنے کا کام آسان ہوجائیگا۔،

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد