’کشمیر پالیسی میں تبدیلی نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے خارجہ سیکریٹری ریاض محمد خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ ڈھائی برس میں جتنی توجہ اور دیرپا بات چیت ہوئی ہے اتنی پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویزمشرف کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر بحث ہورہی ہے اور اس سے کافی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔ کشمیر کے متعلق حالیہ حکومتی بیانات سے پالیسی تبدیل کرنے کے تاثر کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جو یہ کہتا ہے کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی میں تبدیلی ہوئی ہے تو وہ غلط ہے۔ ان کے مطابق پاکستان آج بھی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کے خقِ خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کا حل ایسا ہو جو کشمیری قیادت کو قبول ہو تو اس بارے میں پاکستان لچک کا مظاہرہ کرنے کو تیار ہے اور اگر بھارت بھی ایسا کرے تو کوئی حل نکالا جاسکتا۔ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس سے پاکستان اور ایران کے دو طرفہ تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ خارجہ سیکریٹری نے کہا کہ پاکستان پر امن مقاصد کے لیے جوہری پروگرام کے حصول کے ایران کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ ایران سے بھارت تک گیس پائپ لائن کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ خالصتاً تجارتی منصوبہ ہے اور پاکستان کی ضروریات کے پیش نظر یہ ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فریقین اب قیمت کے تعین کے لیے مشیر مقرر کر رہے ہیں اور جب وہ اپنی تجاویز پیش کریں گے تو ایک بار پھر بات چیت شروع ہوگی اور معاملات آگے بڑھائے جائیں گے۔ | اسی بارے میں ’کشمیر: دستبردار ہونے کو تیار ہیں‘05 December, 2006 | پاکستان ’کشمیر سے دستبردار ہونے کو تیار‘11 December, 2006 | پاکستان ’کشمیر پر قراردادیں بےکار‘19 December, 2006 | پاکستان سرکریک پر پاک بھارت مذاکرات22 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||