BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 December, 2006, 17:44 GMT 22:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیر پر قراردادیں بےکار‘

سردار عبدالقیوم خان
سردار عبدالقیوم خان کشمیر پر پاکستان کے موقف کی تائید کر رہے ہیں
کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی سمجھے جانے والے سردار عبدالقیوم خان کا کہنا ہے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں بے کار ہوچکی ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے حکمت عملی کے تحت ان سے انحراف بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ اگر بھارت کشمیر پر اٹوٹ انگ کے موقف پر اڑا رہے اور ہم قراردادوں پر قائم رہیں تو پھر آگے نہیں بڑھا جاسکتا ہے۔

سردار عبدالقیوم خان کا یہ بھی کہنا تھا ’اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کر تنازعہ کشمیر کا حل تلاش کرنا قرارداداوں سے دستبرداری نہیں ہے بلکہ حکمت عملی کی تبدیلی ہے‘ ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق صدر اور وزیراعظم سردار عبدالقیوم خان نے کہا ’پچاس سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے نہیں ہوسکا‘ ۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کشمیری عوام استصواب رائے کے لیے پچاس سال مزید انتظار کریں؟

کشمیری رہنما نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بے کار قرار دیتے ہوئے کہا’یہ قراردادیں سفارشات کی شکل میں ہیں اور ان میں کشمیر میں استصواب رائے کی سفارش تو کی گئی ہے لیکن ان پر عمل درآمد کو لازمی قرار نہیں دیا گیا‘۔

سردار عبدالقیوم کے مطابق کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں بے کار ہوچکی ہیں

انہوں نے کہا ’یہی وجہ ہے کہ استصواب رائے کا مسئلہ پچاس سال سے لٹکا ہوا ہے اور اقوام متحدہ کچھ بھی نہیں کرسکی‘۔

سردار عبدالقیوم خان نے کہا ’ویسے بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کا مقصد تنازعہ کشمیر کو حل کرنا ہے اور اگر قراردادوں کو ایک طرف رکھ کر کسی اور طریقے سے مسئلہ حل ہوتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے‘۔

سردار عبدالقیوم خان حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے قائد ہیں اور یہ جماعت ریاست کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کی حامی ہے اور اس کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔

انہوں نے کشمیر پر پاکستان کے صدر پرویز مشرف کی تجاویز کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا ’ جنرل مشرف نے سیاسی ضرورت کے تحت پہل کی اور ان کی طرف سے پہل قابل تحسین ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اسی راستے سے چل کر ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ‘۔

انہوں نے کہا ’ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اخلاقی ، سیاسی اور قانونی طور پر یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہم مل بیٹھ کر اس معاملے کو حل کریں گے ‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی تجاویز جن میں فوجوں کا انخلاء ، حق خود حکمرانی اور کشمیر پر مشترکہ نگرانی شامل ہیں کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کا مستقل حل ہوسکتا ہے ۔

 اگر بھارت کشمیر پر اٹوٹ انگ کے موقف پر اڑا رہے اور ہم قراردادوں پر قائم رہیں تو پھر آگے نہیں بڑھا جاسکتا ہے
سردار عبدالقیوم خان

سردار عبدالقیوم خان نے کہا ’ ہم نے پہلے ہی اپنے موقف پر سمجھوتہ کیا ہے لیکن یہ تاثر بھی غلط ہے کہ بھارت اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا ہے‘۔

انہوں نے کہا ’بھارت میونسپل کمیٹی نہیں ہے وہ پاکستان سے نو دس گناہ بڑا ملک ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کمزور حکومت ہونے کے باوجود بھارت کی موجودہ قیادت کی بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے زمینی حقائق کے مطابق مسلسل پیش رفت اور اقدامات کیے ہیں‘۔

لائن آف کنڑول کے دونوں جانب بس سروس کے آغاز پر بھارت نے اتفاق کیا ہے

ان کا کہنا تھا ’بھارت نے یہ اعلان نہیں کیا کہ اس نے سرنڈر کر لیا ہے، ہاتھ اٹھا لیے ہیں اور پاکستان کے سامنے جھک گئے ہیں اور نہ ہی بھارت ایسا اعلان کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کی توقع رکھی جانی چاہیے‘۔

انہوں نے کہا ’ لائن آف کنڑول کے دونوں جانب بس سروس کے آغاز کے علاوہ چند اور مقامات پر کشمیریوں کی آمدورفت کے لیے راستے کھولے جانے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ بھارت نے دونوں اطراف کے کشمیر کے درمیان تجارت شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے‘۔

سردار عبدالقیوم خان نے کہا ’میں سمجھتا ہوں کہ ان کی ( بھارتی حکومت) پوزیشن بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے اور ہماری پوزیشن بھی ٹھیک ہے اور اس سے بات آگے بڑھے گی‘۔

اسی بارے میں
فوج کی مجبوری اسکا ڈسپلن ہے
12 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد