مظفرآباد: مشرف کے موقف پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سنیچر کے روز جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ’تحفظ کشمیر‘ کے نام سے ایک ریلی منعقد کی گئی جس میں پاکستانی صدر مشرف پر سخت تنقید کی گئی۔ ریلی میں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے پیش کی جانے والی چار نکاتی تجاویز مسترد کی گئیں اور مقررین نے کہا کہ ان کو کشمیریوں کے حق خوداردیت سے کم تنازعہ کشمیر کا کوئی بھی حل قابل قبول نہیں ہے ۔ یہ ریلی مظفرآباد میں منعقد کی گئی اور اس میں چند ہزار لوگوں نے شرکت کی۔ اس علاقے کی جماعت اسلامی کے سربراہ سردار اعجاز افضل نے صدر جنرل پرویز مشرف اور پاکستان کی فوج پر سخت تنقید کی اور کہا کہ’ پاکستان کا حکمران بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری آزادی اور تکمیل پاکستان کی تحریک پر ضرب لگانے پر نہ صرف آمادہ ہوچکا ہے بلکہ وہ کھلے الفاظ میں کشمیر سے دستبرداری کی بات کررہا ہے۔‘ اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ’پاکستان کی فوج کو کشمیری عوام کا معاون اور مددگار بننا چاہیے تھا اور پشتی بان کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا لیکن اس کے برعکس پاکستان کے خفیہ ادارے کشمیر کی آزادی کی تحریک کا راستہ روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور ہمارے ہاتھ باندھنے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ ہمارے مجاہدین کو گرفتار کرکے عقوبت خانوں میں پہنچایا جاتا ہے اور ان سے ہتھیار رکھوائے جارہے ہیں۔‘ جماعت اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ’پاکستان میں چھ سو سے زائد لاپتہ مجاہدین پاکستان کی خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں۔‘ انھوں نےالزام لگایا کہ پاکستان کی حکومت نے کشمیر کے اس علاقے میں جولائی میں ہونے والےقانون ساز اسمبلی انتخابات میں ملڑی انٹیلیجنس کے ذریعے دھاندلی کرائی اور مسلم کانفرنس کی کٹھ پتلی حکومت مسلط کی گئی اور دوسری طرف لائن آف کنڑول کے دوسری جانب کل جماعتی حریت کانفرنس کو تقسیم کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ’ حکومت پاکستان کی طرف سے کشمیر کے اس علاقے میں کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تاکہ اس حکومت سے تنازعہ کشمیر کے بارے میں کسی ممکنہ فیصلے کی تائید حاصل کی جائے اور بعد میں یہ تاثر دیا جائے کہ ان فیصلے میں کشمیری شامل تھے ۔‘ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے حال میں ایک بھارتی ٹی وی چینل کو انڑویو دیتے ہوئےکشمیر کے تنازع کو حل کرنے کے لیے چار نکاتی تجاویز پیش کی تھیں جس میں متنازعہ کشمیر سے فوجوں کا مرحلہ وار انخلاء ور مقامی لوگوں کو حق حمکرانی دینے کے تجاویز شامل ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ اگر بھارت ان کی تجاویز تسلیم کرتا ہے تو وہ کشمیر پر اپنے موقف سے دستربردار ہونے کے لیے تیار ہیں ۔ جماعت اسلامی کے اعجاز افضل نے کہا کہ کشمیری عوام اس وقت تک جدو جہد جاری رکھیں گے جب تک کشمیریوں کو بھارت سے مکمل آزادی حاصل نہیں ہوتی ۔ خود مختار کشمیر کے حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یا ’جے کے ایل ایف‘ کے اپنے دھڑے کے سربراہ امان اللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہ ’ہم ریاست کشمیر کی سالمیت کے خلاف کسی بھی اقدام کو غداری سمجھتے ہیں اور یہ کہ بھارت اور پاکستان کے کسی بھی حکمران کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کشمیر کا فیصلہ کریں، یہ حق صرف کشمیریوں کا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔‘ انھوں نے پرویز مشرف کی تجاویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان چار تجاویز میں بعض ناقابل عمل ہیں، بعض مبہم اور بعض انتہائی نقصان دہ ۔ سنیچر کی تحفظ کشمیر کی ریلی میں کشمیر کے اس علاقے کی کئی اور دینی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ پاکستان کی جماعت اسلامی کے سیکریڑی جنرل منور حسن نے بھی شرکت کی ۔ ان رہنماؤں نے بھی صدر جنرل پرویز مشرف کی تجاویز کو مسترد کیا اور ریلی میں شریک تمام رہنما اس بات پر متفق تھے کشمیریوں کے خق خودارایت کے سوال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیا جائے گا ۔ بعض مقررین نے پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان کے اس بیان پر بھی نکتہ چینی کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے یہ کبھی نہیں کہا کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے ۔ لیکن اس ریلی میں کشمیر کے اس علاقے کی حکومت یا حکمران جماعت مسلم کانفرنس کی کوئی نمائندگی نہیں تھی ۔ اس کے بارے میں منتظیمن کا کہنا تھا کہ حکومت یا حکمران جماعت کو اس لیے مدعو نہیں کیا گیا کیونکہ ان کے کہنے کے مطابق وہ کشمیر کی سودا بازی میں حکومت پاکستان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں ۔ کشمیر کے اس علاقے میں شاید صرف حکومت اور حکمران جماعت مسلم کانفرنس ہی پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی تجاویز کی حمایت کررہے ہیں ۔ لیکن لائن آف کنڑول کے دوسری جانب صورت حال قدرے اس کے برعکس ہے جہاں بھارت نواز ریاستی حکومت کے علاوہ بھارت نواز اہم سیاسی جماعتیں اور میر واعظ عمر فاروق کی کُل جماعتی حریت کانفرنس کشمیر پر جنرل پرویز مشرف کی تجاویز کی حمایت کر رہے ہیں ۔ | اسی بارے میں ’کشمیر سے دستبردار ہونے کو تیار‘11 December, 2006 | پاکستان ’کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ نہیں‘11 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||