اس بار بھارت پر الزام نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے اعتدال پسند کُل جماعتی حریت کانفرنس کے دھڑے کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کے گھر پر حملے کی شدید مذمت کی ہے لیکن دلچسپ بات یہ کہ انہوں نے روایت کے برعکس اس حملہ کا ذمہ دار بھارت کو نہیں ٹھرایا بلکہ انہوں نے اس واقعہ کی ذمہ داری کشیمری رہنما اور امن کے عمل کے مخالفین پر ڈالی۔ کشمیری رہنما کے گھر پر پیر کے روز اس وقت دستی بم پھینکا گیا اور فائرنگ کی گئی جب وہ گھر پر موجود نہیں تھے ۔ اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خِان نے حریت کانفرنس کے اپنے دھڑے کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کے گھر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے پوری قوم کے جذبات مجروع ہوئے ہیں ۔ ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وہ سیاسی رہنما جو ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی ہے ایسے واقعات کا الزام بھارت پر یا آزادی کی تحریک کے دشمنوں پر لگاتے تھے ۔ واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور حکمران جماعت مسلم کانفرنس ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کے عمل کی بھر پور حمایت کرتی ہے اور وہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی ان تجاویز کی حامی ہیں جن میں کشمیریوں کی حق حکمرانی اور کشمیر سے فوجوں کی انخلا کی تجاویز شامل ہیں ۔ کشمیر کے اس علاقے کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے مزید کہا کہ ایسے اوچھے اور بزدلانہ ہتھکنڈوں سے امن کا عمل نہیں رکے گا اور یہ کہ امن کے عمل کے مخالفین کو کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ پیر کے روز لائن آف کنڑول کے دوسری جانب سرینگر میں اعتدال پسند کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق کے گھر پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا تھا اور فائرنگ کی تھی۔ ’سیو کشمیر مؤمنٹ‘ یعنی کشمیر بچاؤ تحریک نامی تنظیم نے میر واعظ کے گھر پر حملے میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس تنظیم کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ وہ سخت گیر موقف رکھنے والے کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کی اس ہڑتال کی اپیل کی بھی حمایت کرتے ہیں جو انہوں نے میر واعظ کے دورہ پاکستان کے خلاف کی ہے ۔ میر واعظ عمر فاروق امکانی طور پر جمعرات کو پاکستانی رہنماؤں سے بات چیت کرنے کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ سید علی شاہ گیلانی نے بھی میر واعظ کے گھر پر حملے کی مذمت کی تھی ۔ میر واعظ امن کے عمل کے حامی ہیں جبکہ سید علی شاہ گیلانی کی کل جماعتی حریت کانفرنس اور بھارتی فوج کے خلاف برسر پیکار عسکری تنظیمیں اس کی مخالفت کرتی ہیں ۔ | اسی بارے میں حریت رہنما کی رہائش گاہ پرحملہ15 January, 2007 | انڈیا ’کشمیر نقشے میں بھی متنازع ہے‘18 December, 2006 | پاکستان کشمیر: مشترکہ کنٹرول کی تیاری13 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||