BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 January, 2007, 15:55 GMT 20:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اس بار بھارت پر الزام نہیں

 سردار عتیق احمد خان
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے اعتدال پسند کُل جماعتی حریت کانفرنس کے دھڑے کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کے گھر پر حملے کی شدید مذمت کی ہے لیکن دلچسپ بات یہ کہ انہوں نے روایت کے برعکس اس حملہ کا ذمہ دار بھارت کو نہیں ٹھرایا بلکہ انہوں نے اس واقعہ کی ذمہ داری کشیمری رہنما اور امن کے عمل کے مخالفین پر ڈالی۔

کشمیری رہنما کے گھر پر پیر کے روز اس وقت دستی بم پھینکا گیا اور فائرنگ کی گئی جب وہ گھر پر موجود نہیں تھے ۔ اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خِان نے حریت کانفرنس کے اپنے دھڑے کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کے گھر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے پوری قوم کے جذبات مجروع ہوئے ہیں ۔
انہوں نے روایت کے برعکس اس حملے کی ذمہ داری بھارت پر عائد نہیں کی بلکہ ایک بیان میں کہا کہ ’ہمیں ہر بری بات کے لیے بھارت کو ذمہ دار نہیں ٹہرانا چاہیے‘۔ انہوں نے اس حملے کا ذمہ دار امن کے عمل کےمخالفین ٹہرایا ۔

ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وہ سیاسی رہنما جو ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی ہے ایسے واقعات کا الزام بھارت پر یا آزادی کی تحریک کے دشمنوں پر لگاتے تھے ۔

واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور حکمران جماعت مسلم کانفرنس ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کے عمل کی بھر پور حمایت کرتی ہے اور وہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی ان تجاویز کی حامی ہیں جن میں کشمیریوں کی حق حکمرانی اور کشمیر سے فوجوں کی انخلا کی تجاویز شامل ہیں ۔

کشمیر کے اس علاقے کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے مزید کہا کہ ایسے اوچھے اور بزدلانہ ہتھکنڈوں سے امن کا عمل نہیں رکے گا اور یہ کہ امن کے عمل کے مخالفین کو کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔

پیر کے روز لائن آف کنڑول کے دوسری جانب سرینگر میں اعتدال پسند کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق کے گھر پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا تھا اور فائرنگ کی تھی۔

’سیو کشمیر مؤمنٹ‘ یعنی کشمیر بچاؤ تحریک نامی تنظیم نے میر واعظ کے گھر پر حملے میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔

 میر واعظ عمر فاروق امکانی طور پر جمعرات کو پاکستانی رہنماؤں سے بات چیت کرنے کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں

اس تنظیم کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ وہ سخت گیر موقف رکھنے والے کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کی اس ہڑتال کی اپیل کی بھی حمایت کرتے ہیں جو انہوں نے میر واعظ کے دورہ پاکستان کے خلاف کی ہے ۔

میر واعظ عمر فاروق امکانی طور پر جمعرات کو پاکستانی رہنماؤں سے بات چیت کرنے کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

سید علی شاہ گیلانی نے بھی میر واعظ کے گھر پر حملے کی مذمت کی تھی ۔
میر واعظ عمر فاروق نے جموں میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے گھر پر حملے کے پیچھے وہی لوگ ہیں جو امن کے عمل کے مخالف ہیں۔

میر واعظ امن کے عمل کے حامی ہیں جبکہ سید علی شاہ گیلانی کی کل جماعتی حریت کانفرنس اور بھارتی فوج کے خلاف برسر پیکار عسکری تنظیمیں اس کی مخالفت کرتی ہیں ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد