BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 January, 2007, 12:47 GMT 17:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حریت رہنما کی رہائش گاہ پرحملہ

میر واعظ
میر واعظ کے گھر پر اس سے پہلے بھی حملے ہوئے ہیں
بھارت کے زیرانتظام کشمیرمیں اعتدال پسند حریت دھڑے کے رہنما میر واعظ عمر فاروق کی رہائش گاہ پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا اور فائرنگ کی ہے۔

حملے کے وقت میرواعظ گھر پر نہیں تھے اور کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

’سیو کشمیر مومنٹ‘ یعنی کشمیر بچاؤ تحریک نامی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تحریک کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ سید علی شاہ گیلانی کی اس ہڑتال کی بھی حمایت کرتے ہیں جومیر واعظ عمر فاروق کے دورہء پاکستان کے خلاف کی جائے گی۔

میر واعظ عمر فاروق سترہ جنوری کو پاکستانی رہنماؤں سے بات چیت کے لیے اسلام آباد کے دورے پر پہنچ رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بم اور گولیاں میرواعظ کی رہائش کے عقب سے آئیں لہٰذا اس حملے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

حریت کے سخت گیر دھڑے کے رہنما سید علی گیلانی نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔

حملے کے بعدشہر کے بیشتر علاقوں میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے اور پائین شہر میں میرواعظ کے حامیوں نے پتھراؤ بھی کیا۔ پولیس کے متعلقہ ایس پی بشیر احمد خان کے مطابق حالت قابو میں ہیں۔

میرواعظ کے ذاتی سیکیورٹی گارڈ فہیم علی نے بی بی سی کو بتایا کہ نگین، حضرت بل میں واقع میرواعظ ہاؤس کے شمال کی جانب سے ایک گریینیڈ پھینکا گیا جو رہائش گاہ کے عقب میں واقع ایک چودہ فٹ ویران گلی میں گر کر پھٹ گیا۔
ادھر نئی دلّی روانہ ہونےسے قبل جموں میں ایک پریس کانفرنس میں میرواعظ عمر نے کہا ’میں جانتا ہوں حملے کے پیچھے کون لوگ ہیں۔ یہ وہی ہیں جو امن عمل کے حوالے سے لوگوں کو ڈرانا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا ’مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطرہم جس مؤقف کو اپنا چکے ہیں اس میں خطرات موجود ہیں، لیکن ہم عوام کو ساٹھ سالہ مصیبت سے نکالنے کے لئے یہ خطرات اُٹھائیں گے اور مسئلہ کے حل کی خاطر ماحول سازی کریں گے۔‘

پچھلے سال سے میرواعظ عمرکے موقف میں خاص طور پر فوجی انخلا کے حوالے سے ان کی عوامی رابطہ مہم کو لیکر نئی دلّی کے بعض حلقوں میں تحفظات پائے جاتے تھے۔ سید علی گیلانی سے علیحدہ ہونے کے بعد انہوں نے کافی دیر تک ماڈریٹ راہ اختیار کی، لیکن پاکستانی دورے سے پچھلےسال مارچ میں واپسی پر ان کا اور بعض ہندنواز قوتوں کا لہجہ بہت سخت ہوگیا تھا۔

گیلانی نے بی بی سی کو فون پر بتایا ’میرواعظ گروپ کے ساتھ ان کے اختلاف کی بنیاد کوئی ذاتی عناد نہیں بلکہ اصول ہے۔‘ واضح رہے میرواعظ کے چچا کی ہلاکت کے بعد گیلانی کے داماد اور ان کے سیاسی مشیر ایڈوکیٹ حسام الدین بانڈے کو بھی نامعلوم افراد نے ان کے گھر میں گولی مار قتل کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد