BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 January, 2007, 17:18 GMT 22:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہندوستان کا رویہ بدل رہاہے:میر واعظ

میر واعظ عمر فاروق
بات مد نظر رکھنی چاہیے کہ جموں وکشمیر کے شہریوں کا ایک ایک دن کس عذاب کی طرح کٹ رہا ہے:میر واعظ
آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں بنیادی رکاوٹ ہندوستان کا رویہ رہا ہے لیکن اب اس میں تبدیلی آرہی ہے۔

یہ بات انہوں نے پاکستان آمد کے بعد لاہور ائر پورٹ پر اپنے مختصر قیام کےدوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز حریت کانفرنس نے یہ دورہ ایک ایسے موقع پر کیا ہے جب ان کے بقول کشمیر کے حوالے سے فیصلہ کن حالات پیدا ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور نئی دِلّی میں بات چیت کو کشمیر میں بھی سنجیدگی سے دیکھا جارہا ہے اور اس بات کا انتظار کیا جارہا ہے کہ اس عمل میں کس طرح کشمیری عوام کی شمولیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس کے تین رکنی وفد میں ان کے علاوہ عبدالغنی بھٹ اور بلال لون شامل ہیں۔ میر واعظ عمر فاروق نے مطالبہ کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری موجودہ بات چیت میں کشمیری عوام کو بھی شامل کیاجائے۔

بات چیت
 ’میں سمجھتا ہوں کہ بات چیت ضروری ہے اور اگر ہمارا جھگڑا ہندوستان سے ہے تو پھر ہندوستان سے ہماری بات چیت زیادہ ضروری ہے تاکہ کشمیریوں کے مسئلہ کا حل نکل سکے
میر واعظ
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے حالیہ دورے کے دوران صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف انہیں اعتماد میں لیں گے اور یہ بتائیں گے کہ اسلام آباد اور دِلّی کے درمیان جو بات چیت چل رہی ہے اس میں کیا پیش رفت ہوئی ہے اور اسے کس طرح عملی جامہ پہنایا جارہا ہے۔

انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے کشمیر کے حل کے لیے پیش کردہ چارنکاتی فارمولے کی حمایت کی اور کہا کہ اس کے نتیجےمیں ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے اور ہندوستان کی حکومت کو اس کا مثبت جواب دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان کی تجاویز کے بعد مسئلہ کشمیر کے حل میں پیش رفت ہوئی ہے اور ہندوستان کا رویہ جو ساٹھ برس سے کشمیر کے حل میں رکاوٹ ہے اس میں ان کے بقول تبدیلی آرہی ہے۔

میر واعظ عمر فاروق سے پاکستانی صحافیوں نے سوال کیا کہ علی گیلانی کے بغیر کیا ان کا دورہ کامیاب رہے گا تو انہوں نے جواب دیا کہ جو قیادت بات چیت سے انکار کرتی ہے وہ اس کے مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ بات چیت ضروری ہے اور اگر ہمارا جھگڑا ہندوستان سے ہے تو پھر ہندوستان سے ہماری بات چیت زیادہ ضروری ہے تاکہ کشمیریوں کے مسئلہ کا حل نکل سکے‘۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عسکری جدوجہد کرنے والوں کو موجودہ حالات میں مدد کرنی چاہیے اور ان کے علاوہ پاکستان میں (مذاکرات کے حوالے سے) مختلف آراء رکھنے والے افراد کو یہ بات مد نظر رکھنی چاہیے کہ جموں وکشمیر کے شہریوں کا ایک ایک دن کس عذاب کی طرح کٹ رہا ہے اور اب ان کے مسائل حل ہونے چاہیں۔

میر واعظ نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جاری بات چیت کو باقاعدہ شکل دینی چاہیے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس عمل کو سلسلہ وار چلاتے ہوئے کشمیر کے تنازعےکے متفقہ حل کی طرف لے جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہر اس تجویز کا خیر مقدم کریں گے جو کشمیر کے مسئلے کو حل کی طرف لے جائے۔

کشمیری وفد لاہور ائر پورٹ پر مختصر قیام کے بعد اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ کشمیری لیڈروں نے عندیہ دیا کہ وہ اپنے دورہ کے دوران صدر پاکستان اور دیگرحکومتی عہدیداروں کے علاوہ اپوزیشن کے رہنماؤں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد