حُریت لیڈر ریاض خان سےملیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کےزیرانتظام کشمیرمیں ہندمخالف تنظیموں کے اتحاد کُل جماعتی حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور ان سے اختلاف رکھنے والے سابق حریت رہنما، ہندوستان کے دورے پر آنے والے پاکستانی خارجہ سیکریٹری ریاض محمدخان کے ساتھ منگل کو ملاقات کر نے والے ہیں۔ میرواعظ کی قیادت والے حریت دھڑے کے ترجمان شاہدالاسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ پچھلے ہفتے انہیں نئی دلی سے پاکستانی سفیر کے نائب مسٹر افراسیاب نے ٹیلی فون کر کے مطلع کیا کہ پاکستان کے خارجہ سیکریٹری منگل چودہ نومبر کو میرواعظ عمر فاروق اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میرواعظ فی الوقت ایک کانفرنس کے حوالے سے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہیں۔ شاہدالاسلام کے مطابق ان کی حریت کانفرنس کے تین سینئر لیڈر اس میٹنگ میں شرکت کریں گے ’اور اگر میرواعظ چودہ نومبر تک دلی پہنچے تو وہ بھی خارجہ سیکریٹری سے ملاقات کریں گے۔‘
علی گیلانی نے بھی، جو متبادل تصفیہ یعنی ’آزادی‘ کے بغیر مسئلہ کشمیر کے مختلف حل تجویز کرنے پر پاکستانی حکومت پر عرصہ سے نکتہ چینی کر رہے ہیں، پاکستانی خارجہ سیکریٹری کیساتھ ملاقات پر آمادگی کا اظہار کیا۔ سید علی گیلانی کی قیادت والی حریت کانفرنس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ گیلانی چودہ نومبر کو دلی میں خارجہ سیکریٹری سے ملاقات کرینگے۔ لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یٰسین ملک اور سینئیر لیڈر شبیر احمد شاہ نے پہلے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ریاض خان سے ملاقات کے لئے نئی دلی جارہے ہیں۔
گیلانی گروپ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری چاہتا ہے، جبکہ میرواعظ کی قیادت والا دھڑا گزشتہ ساڑھے تین سال سے جاری ہندپاک امن عمل کی حمات کرتے ہوئے ہندوستان، پاکستان اور کشمیری نمائندوں کے درمیان بات چیت اور ’لین دین‘ کے ذریعہ مسئلہ کے حل کا قائل ہے۔ میرواعظ پچھلے ایک سال سے پاکستان کے صدر جنرل مشرف کی کشمیر سے متعلق فوجی انخلا اور خود حکمرانی کی تجویز پر رائے عامہ ہموار کرنےمیں مصروف ہیں ۔اس سلسلے میں وہ جموں اور لداخ کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ حریت کانفرنس کشمیر میں علیٰحدگی پسند تنظیموں کا سب سے بڑا اتحاد تھا، جس میں مسئلہ کشمیر سے متعلق متضاد مؤقف رکھنے والی جماعتیں بھی شامل تھیں۔ سال دوہزار دو میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد گیلانی نے یہ الزام عائد کیا کہ حریت کی ایک اکائی نے الیکشن میں پراکسی اُمیدوار کھڑے کیے اور حریت قیادت نے بائیکاٹ کی مہم بھی نہیں چلائی۔ اس تنازعہ کو لے کر سید علی گیلانی نے حریت سے الگ ہوکر اپنا گروپ تشکیل دیا۔ پچھلے تین سال کے دوران کئی مرتبہ یوم پاکستان کے موقعہ پر یا رمضان کے دوران افطار پارٹی میں پاکستان نے گیلانی کو ہندوستانی سفارتخانے پر مدعو کیا، لیکن انہوں نے یہ کہہ کر دعوت رد کر دی کہ ’مشرف نے پاکستان کی کشمیر پالیسی سے انحراف کر کے کشمیریوں کو تکلیف پہنچائی ہے۔‘ تاہم پچھلے سال مئی میں جب جنرل مشرف کرکٹ میچ دیکھنے کے لئے نئی دلّی آئے تو انہوں کئی ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان کے صدر سے علیٰحدہ ملاقات کی۔ اس سے قبل پاکسانی وزیر اعظم شوکت عزیز سے بھی وہ نئی دلی میں مل چکے تھے۔
ان مذاکرات سے قبل حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے لیڈروں کے ساتھ پاکستانی خارجہ سیکریڑی کی ملاقات کے بارے میں مختلف حلقے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ ان مذاکرات کے ایجنڈے میں کشمیر کا مسئلہ سرفہرست تھا۔ بعض دیگر حلقے اس سلسلے میں قیاس آرائیاں بھی کرتے ہیں۔ سرینگر کے ایک کالج میں انگریزی کے استاد عابد احمدکا کہنا ہے کہ ’ان مذاکرات میں پاکستان نئی دلی کو کوئی نئی تجویز پیش کرنے والا ہے اور اس سے قبل حریت لیڈروں کے ساتھ ملاقات کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ ہمیں کشمیریوں کا اعتماد حاصل ہے۔‘ | اسی بارے میں کشمیر: مسجد پر بم حملہ، 5 ہلاک10 November, 2006 | انڈیا ’کشمیر سےدس ہزار افراد لاپتہ‘ 28 October, 2006 | انڈیا خارجہ سیکرٹری مذاکرات ملتوی14 July, 2006 | انڈیا پرنب مکھر جی وزیر خارجہ مقرر24 October, 2006 | انڈیا مذاکرات: آئین نہ ماننے والوں سے21 May, 2006 | انڈیا ’حریت کی شرکت کا امکان ففٹی ففٹی‘16 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||