پرنب مکھر جی وزیر خارجہ مقرر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پرنب مکھرجی کو ملک کا نیا وزیر خارجہ مقرر کیا ہے۔ یہ عہدہ نٹور سنگھ کو ہٹائے جانے کے بعد سے خالی تھا۔ مکھرجی وزیراعظم منموہن سنگھ کی کابینہ میں وزیر دفاع کے طور کام کر رہے تھے۔ کابینہ میں ہونے والے اس معمولی ردوبدل میں دفاع کا محکمہ اب اے کے انٹونی کے حوالے کیا گیا ہے۔ نٹور سنگھ نے وزارت خارجہ سے اس وقت استعفیٰ دے دیا تھا جب ان کا نام عراق میں پروگرام ’تیل برائے خوراک‘ کے حوالے سے رشوت دینے کے ایک سکینڈل میں آیا تھا۔ منموہن سنگھ کی مخلوط حکومت سے سیاسی جماعت تلنگانہ راشٹر سمیتی کی علحیدگی کے بعد سے محنت (لیبر) کی وزارت بھی خالی پڑی تھی، اب آسکر فرنینڈس کو اس شعبے کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ کابینہ میں رد بدل میں سب سے اہم تبدیلی پرنب مکھرجی کی وزیر خارجہ کے طور پر تقرری ہے۔ ان کا شمار برسر اقتدار پارٹی کانگریس کے سینیئر رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ اس سے قبل نرسما راؤ کے دورِ اقتدار میں بھی وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔ مکھرجی ایک ایسے وقت میں دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں جب آئندہ ماہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کئی مہینوں کے تعطل کے بعد مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔ ایوان صدر میں نئے وزراء کی تقریب حلف برداری کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک بار پھر اس الزام کا اعادہ کیا کہ ’ممبئی ریل دھماکوں‘ میں پاکستان کا ہاتھ ہونے کا ثبوت موجود ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل وضع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پارلیمنٹ پر حملے کے جرم میں سزائے موت پانے والے محمد افضل گرو کے بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں قانون کے مطابق ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں ’بھارتی فوج میں آئی ایس آئی جال‘23 October, 2006 | انڈیا افضل کی پھانسی مؤخر 19 October, 2006 | انڈیا تیل برائے خوراک: نٹور سنگھ معطل09 August, 2006 | انڈیا پاکستان کو ثبوت دینگے: منموہن 04 October, 2006 | انڈیا وولکر رپورٹ پر ہنگامہ جاری 06 December, 2005 | انڈیا کانگریس کے لیے پہلا بڑا بحران 08 November, 2005 | انڈیا وزارت خارجہ منموہن کے پاس18 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||