BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 October, 2006, 13:24 GMT 18:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افضل کی پھانسی مؤخر

محمد افضل
افضل نے جیل حکام سے پڑھنے کے لیے ذہبی کتابیں طلب کی ہیں
بھارت کی پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے محمد افضل کی سزائے موت وقتی طور پرملتوی کر دی گئی ہے۔ افضل کو بیس اکتوبر یعنی آئندہ کل صبح چھ بجے پھانسی ہونی تھی لیکن انکی اہلیہ کی رحم کی اپیل پر صدر نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اس لیے اسے ملتوی کیا گیا ہے۔

موت اور زندگی کی کشمکش کے درمیان محمد افضل گرو دِلی کی تہاڑ جیل کی مخصوص وارڈ میں قید ہیں۔ ان کی پھانسی کے لیے تمام بند و بست ہوچکے ہیں۔ پھندے کے لیے رسی ریاست بہار سے آئی ہے اور جّلاد پڑوسی شہر میرٹھ سے لیکن اس پورے عمل میں افضل کی اہلیہ تبسم کی رحم کی اپیل حائل ہے جس پر صدر اے پی جے عبد الکلام نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

تہاڑ جیل کےحکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رحم کی اپیل پر جب تک ایوان صدر سے کوئی فیصلہ نہیں آتا افضل کی پھانسی ملتوی کر دی گئی ہے۔ اسی دوران خود افضل نے ذاتی طور پر بھی صدر سے رحم کی اپیل کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔ افضل کی وکیل نندتا ہکسر نے بتایا ہے کہ وہ افضل کی رحم کی اپیل کامتن تیار کر رہی ہیں جسے جلد ہی صدر کو پیش کیا جائے گا۔

افضل کی اہلیہ کی رحم کی اپیل صدر نے وزارت داخلہ کے پاس حکومت سے رائے طلبی کے لیے بھیجی تھی جس کا جواب وزارت داخلہ نے ابھی تک نہیں دیا ہے۔

افضل گورو کی والدہ
افضل گورو کی والدہ

لیکن وزارت قانون نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اس کیس میں سوائے اس کے کہ افضل کے خلاف براہ راست ثبوت نہیں تھے کوئی ایک جامع قانونی پہلو نہیں ہے جس کی بنیاد پر افضل کو پھانسی نہ دی جائے۔

وزارت قانون کے مطابق حالات اور کوائف پوری طرح افضل کے خلاف تھے اور منصفانہ طریقے سے مقدمے کے بعد عدالت نے سزائے موت سنائی ہے۔

اصولی طور پر وزارت داخلہ وزارت قانون سے صلاح و مشورہ کرتی ہے پھر اپنی سفارشات کابینہ کو بھیجتی ہے اور تب حکومت اپنی رائے صدر کو دیتی ہے۔ صدر انہیں سفارشات کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرتا ہے لیکن وہ حکومت کے مشورے کا پابند نہیں ہے اور آئینی طور پر وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔

فی الوقت قانونی پیچیدگیوں اور دفتری خانہ پری کی تاخیر کے سبب یہ معاملہ ٹل گیا ہے۔ دریں اثناء افضل نے جیل حکام سے پڑھنے کے لیے کچھ مذہبی کتابیں طلب کی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد