BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 October, 2006, 11:34 GMT 16:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر اپیل پر غور کریں گے: تبسم

افضل کے اہل خانہ صدر عبدالکلام سے ملاقات کے بعد راشٹرپتی بھون سے لوٹتے ہوئے
بھارت کی پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے محمد افضل کی اہلیہ تبسم نے کہا کہ ’صدر نے رحم کی اپیل پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور ہمیں ان پر بھروسہ ہے۔‘

جمعرات کو محمد افضل کے اہل خانہ نے صدر عبدالکلام سے ذاتی طور پر ملاقات کی اور ان سے افضل کی جان بخشی کی ایک بار پھر اپیل کی ہے ۔اس سے قبل اہل خانہ نے صدر کو رحم کی درخواست بھیجی تھی۔ واضح رہے کہ محمد افضل گورو کو اس ماہ کی بیس تاریخ کو پھانسی دی جانی ہے۔

راشٹرپتی بھون میں صدر سے تقریبا پندرہ منٹ کی ملاقات کے بعد تبسم کے ساتھ افضل کی والدہ عائشہ بیگم، ان کاسات سالہ بیٹا غالب، ان کی وکیل نندتا ہکسر اور سماجی کارکن این ڈی پنچولی بھی تھے۔

تبسم نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ بھارت جمہوری ملک ہے جہاں سب کے ساتھ انصاف ہوتا ہے ’لیکن لگتا ہے یہ جھوٹ ہے یہاں پر ہم کشمیریوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا ہے۔‘ افضل کی ماں نے کہا کہ ملاقات کے دوران انہوں نے صدر سے اپنے بیٹے کے لیے ’رحم و انصاف‘ کی درخواست کی ہے۔

تبسم کے مطابق انہوں نے صدر سے کہا: ’ہمیں سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں انصاف نہیں ملا اور نہ ہی سپریم کورٹ میں اور یہ یکطرفہ فیصلہ ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں تبسم نے کہا کہ افضل رحم کی اپیل کے خلاف نہیں ہیں۔’انہیں چونکہ انصاف نہیں ملا اس لیے اب بھروسہ نہیں ہے۔‘

افضل کے سات سالہ بیٹے غالب نے صدر سے کہا کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے اور’اگر ابّا زندہ رہیں گے تو میرا یہ خواب پورا ہوسکتا ہے۔‘

فاصلہ کم ہو رہا ہے
 محمد افضل اس وقت تہاڑ جیل کی جیل نمبر تین میں ایک مخصوص وارڈ میں ہیں جو سزائے موت پانے والے قیدیوں کے لیے مخصوص ہے۔ دلی کی حکومت عدالت کے حکم کے تحت پھانسی دینے کے لیے ایک جلاد کی تلاش میں ہے اور بیس اکتوبر کے درمیان کا فاصلہ رفتہ رفتہ کم ہوتا جارہا ہے۔

وکیل نندتا ہکسر نے بتا یا کہ تبسم نے صدر سے اس واقعے کا بھی ذکر کیا جس کے مطابق اسکول میں جب غالب کو باپ کی پھانسی کا پتہ چلا تو اس نے گھر کے پنکھے میں رسّی باندھ کر ماں سے کہا کہ ’میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ پھانسی میں ابّو کو کس قدر درد ہوگا۔‘

عدالت کے حکم کے مطابق آئندہ بیس اکتوبر کو افضل کو پھانسی دی جانی ہے۔ پھانسی کی تیاریوں کے لیے عدالت کے فیصلے سے دلی انتظامیہ کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا گیا ہے۔

محمد افضل اس وقت تہاڑ جیل کی جیل نمبر تین میں ایک مخصوص وارڈ میں ہیں جو سزائے موت پانے والے قیدیوں کے لیے مخصوص ہے۔ دلی کی حکومت عدالت کے حکم کے تحت پھانسی دینے کے لیے ایک جلاد کی تلاش میں ہے اور بیس اکتوبر کے درمیان کا فاصلہ رفتہ رفتہ کم ہوتا جارہا ہے۔

کشمیر کی بیشتر سیاسی جماعتیں اور ملک کے دانشور افضل کی موت کی سزا کم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن شیوسینا جیسی ہندو نظریاتی تنظیموں نے افضل کو پھانسی دینے کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

محمد افضل گوروشاعری تا عسکریت
علم، فن، شاعری اور عسکریت کاامتزاج
محمد افضل گورونہیں جانے دوں گا
افضل گورو اپنے بیٹے اوراہل خانہ کی نظرمیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد