پھانسی کے خلاف دانشوروں کی ریلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی پارلیمان پر حملے کی سازش کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے محمد افضل کی سزائے موت کی مخالفت میں ملک کے دانشوروں نے بھی آواز اٹھائی ہے۔ دلی میں کشمیری رہنماؤں کے ساتھ ساتھ متعدد دانشوروں اور صحافیوں نے جنتر منتر میں ایک احتجاجی ریلی نکالی اور سبھی نے یہی اپیل کی کہ افضل کو موت کی سزا نہ دی جائے۔افضل کو 20 اکتوبر کو پھانسی دی جانی ہے۔ معروف گاندھیائی کارکن نرملا دیش پانڈے کا کہنا تھا کہ بعض لوگ اس غلط فہمی میں ہیں کہ پھانسی دینے سے شدت پسندی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ’یہ غلط ہے اگر دہشت گردی پر قابو پانا ہے تو پھانسی دینا انتہائی غلط قدم ہوگا اور اگر دہشت گردی کو بڑھاوا دینا ہے تو پھر جو مرضی آئے کیجئے‘۔
محترمہ پانڈے نے کہا کہ تمام لوگوں کو افضل کی پھانسی کی سزا کی مخالفت کرنی چاہیئے۔ عالمی شہرت یافتہ ادیبہ اروندھتی رائے کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ پھانسی کی سزا کی مخالف ہیں اس لیئے اگر افضل خطاوار بھی ہوتے تو وہ اسکی مخالفت کرتیں۔ ’ایسے شخص کو پھانسی کیسے دی جا سکتی ہے جسے اپنے دفاع کا موقع ہی نہ ملا ہو اور زبردستی گناہ قبول کروایاگیا ہو‘۔ پارلیمنٹ حملے پر کتاب لکھنے والے ایک مصنف نرمل پانڈے کا کہنا تھا کہ ملک میں اقلیتوں کے ساتھ بے انصافیاں ہوتی ہیں۔ ’بابری مسجد انہدام کے بعد اور گجرات فسادات میں ہزاروں لوگ قتل کر دیۓ گیے تو کیا کسی کو پھانسی ملی۔ کچھ قاتل اقتدار میں اور بہت سے آزاد تو یہ کیسا انصاف ہے؟‘۔
محمد افضل کے آبائی قصبے سوپور کی نمائندگی کرنے والے رکن پارلیمنٹ عبدالرشید شاہین بھی احتجاجی ریلی میں شامل ہوئے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ ’اگر ملک کے عوام کے جذبات کی تسکین کے لیئے پھانسی کی سزا دی گئی ہے تو اسکے خلاف پر زور اجتجاج کرنا چاہیے۔ افضل کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے‘۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یسین ملک دلی میں گزشتہ کئی روز سے افضل کی حمایت میں مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس کے اہل خانہ کی میڈیا کے سامنے نمائش کرکے یہ فضا تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پھانسی درست ہے۔ ’سارے حملہ آور بھی مارے گئے تھے اور کشمیری تو ایک لاکھ سے زیادہ ہلاک ہوچکے ہیں تو کیا ہم یہ شرط رکھیں کہ پہلے ان سارے فوجیوں کو پھانسی دی جائے جنہوں نے کشمیریوں کو ہلاک کیا ہے پھر ہم مسئلہ کشمیر حل کرینگے‘۔ معروف سماجی کارکن میدھا پاٹکر بھی افضل کو پھانسی دیئے جانے کے فیصلے کے سخت خلاف ہیں۔’ کشمیر میں حالات اور خراب ہونگے۔ میں تو اس حق میں ہوں کہ اب وقت آ پہنچا ہے کہ کشمریوں کو خود مختاری اور راۓ دہی کا حق دیا جائے‘۔ دانشوروں، رہنماؤں، صحافیوں اور سزائے موت کی مخالفت کرنے والے کار کنوں کے درمیان محمد افضل کا سات سالہ بیٹا غالب بھی خاموشی بیٹھا ہوا تھا۔ غالب کے ہاتھوں میں ایک تختی تھی جس پر لکھا تھا ’افضل کو پھانسی دینا ہندوستان کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ ہوگا‘۔ محمد افضل کی اہلیہ تبسم نے صدر اے پی جے عبدالکلام سے اپنے شوہر کی جان بخشی کی اپیل کی ہے۔ ایوان صدر نے رحم کی درخواست وزارت داخلہ کو بھیج دی ہے۔ افضل کو 20 اکتوبر کو پھانسی دی جانی ہے۔ |
اسی بارے میں افضل پھانسی: اپیل صدر کے حوالے 03 October, 2006 | انڈیا کشمیر میں ہڑتال سے زندگی متاثر 29 September, 2006 | انڈیا سرینگر: فوٹوگرافرز پر تشدد29 September, 2006 | انڈیا پھانسی کا حکم: کشمیر میں احتجاج27 September, 2006 | انڈیا محمد افضل کو پھانسی کی سزا26 September, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||