BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 October, 2006, 15:36 GMT 20:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پھانسی کے خلاف دانشوروں کی ریلی

احتجاجی ریلی
احتجاجی مظاہرے میں دانشوروں اور صحافیوں نے حصہ لیا
بھارت کی پارلیمان پر حملے کی سازش کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے محمد افضل کی سزائے موت کی مخالفت میں ملک کے دانشوروں نے بھی آواز اٹھائی ہے۔

دلی میں کشمیری رہنماؤں کے ساتھ ساتھ متعدد دانشوروں اور صحافیوں نے جنتر منتر میں ایک احتجاجی ریلی نکالی اور سبھی نے یہی اپیل کی کہ افضل کو موت کی سزا نہ دی جائے۔افضل کو 20 اکتوبر کو پھانسی دی جانی ہے۔

معروف گاندھیائی کارکن نرملا دیش پانڈے کا کہنا تھا کہ بعض لوگ اس غلط فہمی میں ہیں کہ پھانسی دینے سے شدت پسندی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

’یہ غلط ہے اگر دہشت گردی پر قابو پانا ہے تو پھانسی دینا انتہائی غلط قدم ہوگا اور اگر دہشت گردی کو بڑھاوا دینا ہے تو پھر جو مرضی آئے کیجئے‘۔

محمد افضل
محمد افضل کو پارلیمان پر حملے کی سازش تیار کرنے کےجرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے

محترمہ پانڈے نے کہا کہ تمام لوگوں کو افضل کی پھانسی کی سزا کی مخالفت کرنی چاہیئے۔

عالمی شہرت یافتہ ادیبہ اروندھتی رائے کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ پھانسی کی سزا کی مخالف ہیں اس لیئے اگر افضل خطاوار بھی ہوتے تو وہ اسکی مخالفت کرتیں۔

’ایسے شخص کو پھانسی کیسے دی جا سکتی ہے جسے اپنے دفاع کا موقع ہی نہ ملا ہو اور زبردستی گناہ قبول کروایاگیا ہو‘۔

پارلیمنٹ حملے پر کتاب لکھنے والے ایک مصنف نرمل پانڈے کا کہنا تھا کہ ملک میں اقلیتوں کے ساتھ بے انصافیاں ہوتی ہیں۔

’بابری مسجد انہدام کے بعد اور گجرات فسادات میں ہزاروں لوگ قتل کر دیۓ گیے تو کیا کسی کو پھانسی ملی۔ کچھ قاتل اقتدار میں اور بہت سے آزاد تو یہ کیسا انصاف ہے؟‘۔

پھانسی غلط ہے
News image
 ایسے شخص کو پھانسی کیسے دی جا سکتی ہے جسے اپنے دفاع کا موقع ہی نہ ملا ہو اور زبردستی گناہ قبول کروایاگیا ہو
اروندھتی رائے

محمد افضل کے آبائی قصبے سوپور کی نمائندگی کرنے والے رکن پارلیمنٹ عبدالرشید شاہین بھی احتجاجی ریلی میں شامل ہوئے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ ’اگر ملک کے عوام کے جذبات کی تسکین کے لیئے پھانسی کی سزا دی گئی ہے تو اسکے خلاف پر زور اجتجاج کرنا چاہیے۔ افضل کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے‘۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یسین ملک دلی میں گزشتہ کئی روز سے افضل کی حمایت میں مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس کے اہل خانہ کی میڈیا کے سامنے نمائش کرکے یہ فضا تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پھانسی درست ہے۔

’سارے حملہ آور بھی مارے گئے تھے اور کشمیری تو ایک لاکھ سے زیادہ ہلاک ہوچکے ہیں تو کیا ہم یہ شرط رکھیں کہ پہلے ان سارے فوجیوں کو پھانسی دی جائے جنہوں نے کشمیریوں کو ہلاک کیا ہے پھر ہم مسئلہ کشمیر حل کرینگے‘۔

معروف سماجی کارکن میدھا پاٹکر بھی افضل کو پھانسی دیئے جانے کے فیصلے کے سخت خلاف ہیں۔’ کشمیر میں حالات اور خراب ہونگے۔ میں تو اس حق میں ہوں کہ اب وقت آ پہنچا ہے کہ کشمریوں کو خود مختاری اور راۓ دہی کا حق دیا جائے‘۔

دانشوروں، رہنماؤں، صحافیوں اور سزائے موت کی مخالفت کرنے والے کار کنوں کے درمیان محمد افضل کا سات سالہ بیٹا غالب بھی خاموشی بیٹھا ہوا تھا۔ غالب کے ہاتھوں میں ایک تختی تھی جس پر لکھا تھا ’افضل کو پھانسی دینا ہندوستان کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ ہوگا‘۔

محمد افضل کی اہلیہ تبسم نے صدر اے پی جے عبدالکلام سے اپنے شوہر کی جان بخشی کی اپیل کی ہے۔ ایوان صدر نے رحم کی درخواست وزارت داخلہ کو بھیج دی ہے۔ افضل کو 20 اکتوبر کو پھانسی دی جانی ہے۔

محمد افضل گوروشاعری تا عسکریت
علم، فن، شاعری اور عسکریت کاامتزاج
محمد افضل گورونہیں جانے دوں گا
افضل گورو اپنے بیٹے اوراہل خانہ کی نظرمیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد