BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 October, 2006, 07:32 GMT 12:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افضل پھانسی: اپیل صدر کے حوالے

محمد افضل کو بیس اکتوبر کو دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی جائےگی
پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے محمد افضل کی اہلیہ تبسم نے صدر اے پی جے عبدالکلام سے اپنے شوہر کی جان بخشی کی اپیل کی ہے۔ افضل کو 20 اکتوبر کو پھانسی دی جانی ہے۔

منگل کی صبح تبسم نے اپنے سات سالہ بیٹے غالب کے ساتھ راشٹرپتی بھون میں صدر کو رحم کی درخواست حوالے کی ہے۔ افضل کو اس ماہ کی بیس تاریخ کو پھانسی دی جانی ہے۔


تبسم کے ساتھ کے ساتھ افضل کی ماں عائشہ بیگم اور بھائی بلال احمد بھی تھے۔ رحم کی درخواست دینے کے بعد یہ لوگ افضل سے ملاقات کے لیے تہاڑ جیل پہنچے۔

افضل سے ملاقات کے بعد ان کے بھائی بلال نے کہا کہ ان کا کسی تنظیم سے کوئي واسطہ نہیں لیکن ’انسانیت کی بنیاد پر ہم نے افضل کے لیئے رحم کی اپیل کی ہے۔‘

ادھر قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک غیر سرکاری تنظیم ( ایس پی ڈی پی آر ) سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف ڈیٹنیز اینڈ پرزنرز رائٹز نے افضل کی موت کو پھانسی دینے کے خلاف مہم تیز کردی ہے۔

پھانسی نہیں عمر قید
 کشمیر کے وزیر اعلی غلام نبی آزاد اور سابق وزرائے اعلی مفتی محمد سعید اور فاروق عبداللہ سمیت ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے کئی رہنماؤں نے افضل کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی حمایت کی ہے۔
کشمیری رہنماؤں کا مطالبہ

’دلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پولیس کے ثبوت فرضی تھے تو پھر اس تفتیش پر یقین کس حد تک کیا جاسکتا ہے اور کیا ناقص تفتیش کی بنیاد پر پھانسی دی جاسکتی ہے۔ کیا اس سے بھارت کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ نہیں لگے گا‘۔

پروفیسر گیلانی نے کہا کہ اس فیصلے میں بعض قانونی نقائص ہیں۔ ان کے مطابق ذیلی عدالت میں افضل کو کوئی وکیل نہیں فراہم کیا گیا اور ہائی کورٹ میں بھی کیس کو خراب کیا گیا تھا اور جب نچلی عدالت میں کیس بگڑ جائے تو پھر سپریم کورٹ میں بھی انصاف کی گنجائش کم رہتی ہے۔ ’عدالت میں انہیں نقائص کی بنیاد پر رحم کی اپیل کی گئي ہے‘۔

انکا کہنا تھا کہ وہ افضل کو بے قصور نہیں بتاتے ہیں لیکن ’یہ دیکھنا ضروری ہے کہ انہیں کتنی سزادی گئی ہے‘۔

افضل کے وکیل این ڈی پنچولی نے کہا کہ پارلیمنٹ پر حملے کی سازش میں افضل کے خلاف براہ راست کوئی ثبوت نہیں ہے اور خود سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’اجتماعی طور پر سماج اور قوم کے جذبات کی تسکین کے لیے موت کی سزا دی گئی ہے‘۔

مسٹر پنچولی نے کہا کہ افضل کو پھانسی دینا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

ادھر حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی نے افضل کو پھانسی دینے کی مخالفت کرنے والوں پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ پاٹی کے ترجمان پرکاش جاؤڈیکر نے کہا ہے کہ اس سے دہشت گردی کے خلاف مہم کمزور پڑ جائے گی۔ اگر پارلیمنٹ پر حملہ میں پھانسی نہیں دی جائیگی تو پھر کسے پھانسی ملے گی۔ ’جو لوگ افضل کو معاف کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں انہیں خود ملک سے معافی منگنی چاہیے‘۔

جہاں ایک طرف کشمیر کی بیشتر سیاسی جماعتیں افضل کی موت کی سزا کم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں وہیں شیوسینا جیسی ہندو نظریاتی تنظیموں نے افضل کو پھانسی دینے کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کیۓ ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد