علم، فن، شاعری اور عسکریت کاامتزاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیرہ دسمبر دو ہزار ایک میں انڈین پارلیمنٹ پر ہوئے فدائی حملے کے لیئے سزائے موت پانے والے محمد افضل گورو کی زندگی علم، فن اور مزاحمت کا دلچسپ امتزاج ہے۔ سنتیس سالہ افضل شمالی قصبہ سوپور کے ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو سوپور سے چھ کلومیٹر دور جاگیر دوآبگاہ گاؤں میں دریائے جہلم کے کنارے آباد ہے۔ افضل کے ہم جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ سکول کی تقریبات میں اس قدر سرگرم تھے کہ انہیں ہندوستان کے یوم آزادی کے موقع پر پریڈ کی قیادت کے لیئے خصوصی طور چنا جاتا۔ مقامی سکول سے افضل نے سن اُنیس سو چھیاسی میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ تشدد پر تعلیم کو ترجیح جب کشمیر میں اُنیس سو نوّے کے آس پاس مسلح شورش شروع ہوئی تو افضل ایم بی بی ایس کے تھرڈ ایئر میں تھے۔ تب تک ان کے دوست نوید حکیم عرف انجم عسکریت کو اپنا چکے تھے۔ بندوق کا انتخاب کنٹرول لائن کے پار مظفرآباد میں ہتھیاروں کی تربیت کے بعد واپس لوٹے تو تنطیم کے عسکری حکمت عملی کے سربراہ بن گئے۔ سوپور میں تقریباً تین سو بندوق بردار ان کی ماتحتی میں تھے۔
ایسے ہی ایک جنگجوفاروق احمد عرف کیپٹن تجمل(جو عسکریت کو خیرباد کہہ چکے ہیں) نے بی بی سی کو بتایا کہ افضل خون خرابے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ پُرانی یادیں دہراتے ہوئے فاروق کا کہنا ہے ’جب کشمیر میں لبریشن فرنٹ اور حزب المجاہدین کے درمیان تصادم شروع ہوئے تو افضل نے تین سو مسلح لڑکوں کا اجلاس سوپور میں طلب کیا اور اعلان کیا کہ ہم اس تصادم میں شامل نہیں ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام علاقوں میں اس خانہ جنگی کی وجہ سے سینکڑوں مجاہدین مارے گئے لیکن ہمارا علاقہ پُرامن رہا۔‘
عسکریت سے واپسی افضل کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس خانہ جنگی پر بہت پریشان تھے اور عسکریت پسندی سے ان کا جی بھر گیا تھا۔ اُنیس سو اکانوے کے اواخر میں جب انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے تو آرمی کی پندرہ پنجاب ریجمنٹ کے ایک کمانڈنگ افسر نے انہیں پڑھائی مکمل کرنے کا مشورہ دیا۔ اپنے چچیرے بھائی شوکت گورو (پارلیمنٹ حملے کے ایک اور ملزم) کی مدد سے انہوں نے دلی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور گریجویشن کے بعد اکنامکس میں ڈگری حاصل کر لی۔ شوکت کے چھوٹے بھائی یٰسین گورو کا کہنا ہے کہ افضل دلی میں اپنا اور اپنی پڑھائی کا خرچ ٹیوشن کر کے چلاتے تھے۔ ڈگری کے بعد تھوڑے عرصے کے لیئے شوکت اور افضل دونوں نے بینک آف امریکہ میں نوکری کی۔ پُرامن زندگی کا آغاز امن کی راہ میں رکاوٹیں افضل کی بھابی بیگم اعجاز کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار میں ٹاسک فورس نے افضل کوگرفتار کر لیا اور جان لیوا اذیتوں سے گزارا۔ ٹاسک فورس کیمپ میں افضل کے ساتھ ایک ملاقات کو یاد کرتے ہوئے بیگم اعجاز کہتی ہیں ’جب ہم اسے ملے تو وہ نیم مردہ تھا۔ میں نے اپنے بچے کو اس کے آگے کیا کہ وہ اسے گود میں لے لے، تو وہ افضل کی باہوں سے پھسل کرگرگیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ اس کی ساری انگلیاں سوجن سے ٹیڑھی ہو چکی تھیں۔ وہ بچے کو نہیں تھام سکا۔‘
افضل نے ٹاسک فورس کی زیادتیوں کے بارے میں اپنی بیوی تبسّم سے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’ اس نے کہا کہ ایک دفعہ مجھے مارنے کے لیئے دور کسی جگہ لے گئے۔ ایک کشمیری پولیس افسر نے اپنی پستول میری کنپٹی پر رکھ دی اور رُک گیا۔ اتنے میں اسے فون آیا کہ مارتے کیوں نہیں، اس نے جواب دیا کہ مجھےاس کی تعلیم کا پاس ہے۔ بعد میں اسے اس افسر نے اس شرط پر چھوڑ دیا کہ کشمیر سے باہر نہیں جائے گا لیکن زیرحراست ٹارچر نے اس کے خیالات کی دنیا ہی بدل ڈالی تھی۔‘ بعدازاں افضل نے سوپور میں رہنا چھوڑ دیا اور زیادہ تر دلی اور سرینگر میں رہنے لگے۔ ہلال گورو کا کہنا ہے کہ جب تیرہ دسمبر کو انڈین پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو وہ افضل کے ساتھ دلی میں موجود تھے۔ ہلال کا کہنا ہے کہ وہ افضل کے ہمراہ دوائیں لے کر ٹرک میں پندرہ دسمبر کو کشمیر پہنچے اور سوپور جاتے ہوئے علی الصبح پولیس نے ٹرک کو گھیرے میں لے کر شوکت اور افضل کو گرفتار کر لیا۔ محمد افضل کو انڈین پارلیمنٹ پر حملے میں ان کے کردار کی بنا پر بیس اکتوبر کو پھانسی دی جائے گی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ دہشت گردوں کے مذموم عمل میں ان کی اعانت کے لیئے محمد افضل نے وہ سب کچھ کیا جو وہ ممکنہ طور پر کر سکتے تھے۔ عدالت کے مطابق ’اس بات کی قطعی شہادت موجود ہے کہ محمد افضل، سازش کا ایک حصہ تھے اور ان کا مرنے والے دہشت گرد سے تعلق تھا۔‘ اگر محمد افضل کو عدالت کے فیصلے کے تحت پھانسی دی گئی تو وہ دوسرے ایسے کشمیری ہوں گے جنہیں علیحدگی پسند سرگرمیوں کے باعث تختۂ دار پر لٹکایا جائے گا۔ انیس سو چوراسی میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بھٹ کو انڈیا کی انٹیلیجنس کے ایک افسر کو قتل کرنے کے جرم پر سزائے موت دی گئی تھی۔ | اسی بارے میں محمد افضل کو پھانسی کی سزا26 September, 2006 | انڈیا کشمیر میں ہڑتال سے زندگی متاثر 29 September, 2006 | انڈیا سرینگر: فوٹوگرافرز پر تشدد29 September, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے، پولیس بھی مجرم 26 September, 2006 | انڈیا ماؤ نواز باغیوں کا حملہ، 26 ہلاک17 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||