تہاڑ جیل میں پھانسی کی تیاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین پارلیمینٹ پر حملے کے مقدمے میں پھانسی کے سزا سانئے جانے والے محمد افضل کے اہل خانہ کی معافی کی درخواست صدر ڈاکٹر عبد الکلام کے زیر غور ہے لیکن معلوم ہوا ہے کہ دلی کی تہاڑ جیل کے اہلکار محمد افضل کو پھانسی دینے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ تہاڑ جیل نے اس سلسلے میں بہار کی بکسر جیل سے پھندا طلب کیا ہے۔ بکسر جیل کے سپرنٹنڈنٹ عرفان الحق انصاری نے بی بی سی کو بتایا کہ تہاڑ جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ انجنی کمار تیرہ اکتوبر کو بکسر جیل پہنچے تھے۔ مسٹر کمار ایک سو اسی روپے فی کلو گرام کے نرخ سے پھانسی کا پھندا بنانے کے کام آنے والی پونے چار کلو رسی اپنے ساتھ لے گۓ ہیں۔ عرفان الحق کے مطابق انجنی کمار نے انہیں بتایا کہ یہ رسی محمد افضل کو پھانسی کی سزا دینے کے سلسلے میں ہی خریدی گئی ہے۔ بکسر جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ (صنعت) سنجے کمار کے مطابق
واضح رہے کہ محمد افضل کو ملک کی سپریم کورٹ نے آئندہ بیس اکتوبر کو پھانسی کے ذریعہ موت دینے کی سزا سنائی ہے۔ دریں اثنا محمد افضل کو معافی دینے کی مخالفت کرنے والی ہندو نواز بھارتیہ جنتا پارٹی اور چند دیگر تنظیموں نے اعلان کر رکھا ہے کہ صدر جمہوریہ کا فیصلہ چاہے جو ہو اپنی طرف سے وہ بیس اکتوبر کو علامتی طور پر محمد افضل کو پھانسی پر چڑھائیں گے۔ اس سلسلے میں بی جے پی مختلف پروگرام منعقد کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں افضل پھانسی: اپیل صدر کے حوالے 03 October, 2006 | انڈیا مندر پرحملے کے مجرموں کو پھانسی01 July, 2006 | انڈیا پنجاب: دو دن میں سات پھانسیاں26 July, 2006 | پاکستان بچوں نے پھانسی سے بچا لیا07 June, 2006 | پاکستان ’مجھے پھانسی کیوں نہیں دیدیتے‘12 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||