’مجھے پھانسی کیوں نہیں دیدیتے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ کے سٹار سلمان خان نے عدالت سے کہا کہ وہ مقدمے کی طوالت سے تنگ آ گئے ہیں اور اس عذاب کو بھگتنے سے بہتر ہے کہ انہیں پھانسی دے دی جائے۔ سلمان خان جمعرات کے روز مغربی ریاست راجستھان کی ایک عدالت میں اپنے خلاف ایک مقدمے کے سلسلے میں پیش ہوئے ہیں۔ ریاست کی پولیس نے ان کے خلاف 1998 میں مبینہ طور پر دو کالے ہرن مارنے کے سلسلے میں چار مقدمات درج کیے تھے۔ کالا ہرن اس علاقے میں ایک نایاب نسل ہے اور اس کے شکار پر پابندی ہے۔ اس وقت سلمان خان اپنی ایک فلم کی شوٹنگ کے سلسلے میں جودھ پور میں تھے۔ ان کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ یہ الزامات جھوٹے ہیں۔ لیکن بشنوئی برادری کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے کہا کہ سلمان خان کے خلاف مضبوط شہادت موجود ہے۔ بشنوئی برادری ہی اس مقدمے کی مدعی ہے اور یہ لوگ کالے ہرن کی پوجا کرتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں اس واقعے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد ان لوگوں نے سلمان خان کے خلاف کارروائی کیے جانے کے حق میں مظاہرے بھی کیے۔ سلمان خان پہلے فلمی ستارے نہیں ہیں جن پر ہرن کے شکار کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان سے پہلے بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور فلم سٹار سیف علی خان کے والد نواب منصور علی خان پر بھی نہ صرف ہرن مارنے کا الزام ہے بلکہ وہ اس مقدمے میں ضمانت پر ہیں۔ |
اسی بارے میں عدالت: سلمان کو دس دن کی مہلت 15 December, 2005 | فن فنکار سلمان خان کی ضمانت منسوخ13 December, 2005 | فن فنکار آڈیو ٹیپ: آواز سلمان کی نہیں16 September, 2005 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||