BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 October, 2006, 03:23 GMT 08:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افضل خود رحم کی اپیل کریں گے‘

افضال کی وکیل کا کہنا ہے کہ وہ صدر کو لکھے جانے والے خط کا متن تیار کر رہی ہیں
انڈیا کی جیل میں قید کشمیری محمد افضل کی وکیل نے کہا ہے کہ ان کا مؤکل ذاتی طور پر صدرِ جمہوریہ سے رحم کی اپیل کرے گا۔ محمد افضل کو جمعے کو پھانسی دی جانی ہے مگر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید یہ پھانسی ملتوی ہو جائے۔

ملزم کی وکیل نندتا ہکسر نے بتایا ہے کہ وہ اس خط کا متن تیار کر رہی ہیں جو محمد افضل کی طرف سے انڈیا کے صدر کو رحم کی درخواست کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔

محمد افضل گرو کی پھانسی بیس اکتوبر کو ہونی ہے۔ ان کی رحم کی اپیل صدر جمہوریہ کے زیر غور ہے۔ ابھی تک ایوان صدر کی طرف سے رحم کی پہلی اپیل قبول کرنے یا مسترد کرنے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے۔

عدالت نے محمد افضل گرو کی سزاۓ موت کے لیے 20 اکتوبر کی تاریخ اور چھ بجے صبح کا وقت مقرر کیا ہے۔

افضال کی پھانسی کے خلاف اور اس کے حق میں مظاہرے کیئے گئے ہیں

موت کی سزا کے لیے پھانسی کا طریقہ اختیار کیا جانا ہے۔ پھانسی کے لیے کئی کلو گرام مخصوص قسم کی رسی بکسر جیل سے دلی لائی جا چکی ہے اور اطلاعات کے مطابق تہاڑ جیل کے حکام نے میرٹھ میں ماموں نام کے ایک جلاّد سے رابطہ قائم کیا ہے۔ اخبارات کی خبروں کے مطابق ماموں سے تیار رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

ادھر اگر بی جے پی اور اسکی ہم نوا تنظیموں نے افضل کی پھانسی کی حمایت میں مہم چلا رکھی ہے تو دوسری جانب جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں محمد افضل کی پھانسی کی سزا کے خلاف ایک مظاہرہ کا بھی اہتمام ہے اور بعد میں افضل کی وکیل نندتا ہکسر اور حقوق انسانی کے کار کن روی نائر اور کئی دانشور طلبہ سے خطاب کریں گے۔

جمعرات کو دارلحکومت دلی میں حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل کے زیر انتظام افضل گرو کی سزا کے پس منظر میں موت کی سزا کے اخلاقی، قانونی اور سماجی پہلوؤں پر ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا ہے۔

اس میں سزاۓ موت کی مخالفت کرنے والے ملکی اور بین الاقوامی دانشور اور کار کن حصہ لے رہے ہیں۔

محمد افضال کے اہلِ خانہ پہلے ہی صدر سے رحم کی اپیل کر چکے ہیں

ان سرگرمیوں کے دوران ایوان صدر کی خاموشی ابھی برقرار ہے۔ رحم کی اپیل کے بارے میں صدر نے وزارت داخلہ سے حکومت کی راۓ طلب کی ہے۔ ابھی تک وزارت داخلہ نے تو اپنا جواب نہیں دیا ہے لیکن وزارت قانون نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ ایسی کوئی وجہ نہیں ہے جسکی بنیادوں پر افضل کی پھانسی کی سزا نہ دی جاۓ۔

وزارت کے مطابق ’اس کیس میں سواۓ اسکے کہ افضل کے خلاف براہ راست ثبوت نہیں تھے کوئی ایک جامع قانونی پہلو نہیں ہے جسکی بنیاد پر افضل کو پھانسی نہ دی جاۓ۔ حالات اور کوائف پوری طرح افضل کے خلاف تھے اور منصفانہ طریقے سے مقدمے کے بعد عدالت نے سزاۓ موت سنائی ہے۔‘

وزارت قانون نے کہا ہے ’پھانسی معاف کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد