BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 October, 2006, 15:14 GMT 20:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بھارتی فوج میں آئی ایس آئی جال‘

پرنب مکھرجی
وزیر دفاع نے بعض اہلکاروں پر امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام کا ذکر نہیں کیا
ہندوستان کے وزیر دفا‏ع پرنب مکھرجی نے فوج میں پاکستانی خفیہ سروس آئی ایس آئی کے مبینہ جاسوسی کےجال کی موجودگی پرسخت تشویش ظاہر کی ہے۔

مسٹر مکھر جی نے کہا ہے کہ جاسوسی کے نیٹ ورک کا پتہ لگانے کے لیے مسلح افواج میں بڑے پیمانے پر تفتیش کی جا رہی ہے۔

مسٹرمکھرجی نے جاسوسی پر یہ تشویش گزشتہ دنوں فوج کے دو جوانوں کی پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتاری کے بعد ظاہر کی ہے۔

کشمیر سے کٹھمنڈو
 ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ جاسوسی کا یہ معاملہ ہندوستان کے زير انتظام کشمیر سے لے کر دِلّی اور نیپال میں کٹھمنڈو تک پھیلا ہوا ہے
مکھرجی
برّی فوج کے گروپ انشورنس فنڈ کے محکمے میں حوالدار انل کمار دوبے کو پاکستان ہائی کمیشن کے ایک ڈرائور کو پولیس کے بقول انتہائی اہم دستاویزات دیتے ہوئے پکڑا گیا۔

گزشتہ دنوں پاکستان ہائی کمیشن نے وزارت خارجہ سے ایک ڈرائیور کے ساتھ بدسلوکی کی شکایت کی تھی۔

ایک اور واقعہ میں لیہہ میں تعینات فوج کے ایک سگنل مین رتیش کمار کو لیہہ سے دلی پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ پولس کا دعویٰ ہے کہ وہ کٹھمنڈو میں واقع آئی ایس آئی کے ایجنٹ کو فوج کی تعیناتی اور دیگر تفصیلات کے بارے میں اہم دستاویزات دینے جا رہے تھے۔

وزیر دفاع پرنب مکھرجی نے بحری محافظوں کی ایک تقریب میں کہا کہ یہ تشویش کی بات ہے کیونکہ بقول ان کے آئی ایس آئی کی سرگرمیوں کے بارے میں ’ہم سبھی واقف ہیں اور اکثر ان کے نیٹ ورک بھی گرفت میں آئے ہيں لیکن یہ انتہائی تشویش کی بات اس لیے ہے کہ یہ نٹورک اب فوج تک پہنچ گیا ہےاور ہم سبھی کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ کامیاب نہ ہونے پائے اور جو غفلت ہو رہی ہے اسے دور کیا جائے‘۔

انہوں نے مزید کہا ’ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ جاسوسی کا یہ معاملہ ہندوستان کے زير انتظام کشمیر سے لے کر دِلّی اور نیپال میں کٹھمنڈو تک پھیلا ہوا ہے‘۔

اس واقعہ کی سول انٹیلی جنس، ملٹری انٹیلی جنس اور کئی دیگر تفتیشی ادارے تفتیش کر رہے ہيں۔

گزشتہ ہفتے تفتیشی اداروں نے بحریہ، فوج اور قومی سلامتی کونسل کے بعض اہلکاروں کے خلاف امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں فرد جرم داخل کی ہے۔ جاسوسی کے الزام میں ہی ریسرچ اور انالِسس ونگ(را) کے بھی بعض اعلی اہلکار فرار ہیں۔

سکیورٹی کے ادارے جاسوسی کے ان معاملات سے ملک کی سلامتی کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں لیکن وزیر دفاع نے ان واقعات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد