BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 October, 2006, 15:49 GMT 20:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرنانڈس پر رشوت خوری کا الزام

ان معاملات میں جارج فرنانڈس کو ایک بار پہلے بے قصور قرار دیا جاچکا ہے
ہندوستان کے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے اسرائیلی ساخت کے براک مزائلوں کی خریداری میں رشوت خوری کے الزام میں سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈس اور بحریہ کے سابق سربراہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

تہلکہ ‏ نیوز ویب سائٹ کی خفیہ رکارڈنگ کے تقریبا پانچ برس بعد سی بی آئی نے حالیہ برسوں میں مختلف دفاعی سودوں میں کمیشن اور رشوت خوری کے الزامات کے سلسلے میں کم از کم پینتیس مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔

سی بی آئی کے ترجمان جی موہنتی نے بتایا کہ اسرائیل سے براک مزائیلوں کی خریداری کے سلسلے میں سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈس اور ان کی پارٹی کے صدر جیا جیٹلی اور بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل سشیل کمار کے خلاف رشوت خوری کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا اس سودے کے لیئے ایک بڑی رقم کمیشن کے طور پر ادا کی گئی تھی۔ ’سمتا پارٹی کی صدر کو جو وزیر دفاع کے گھر سے کام کرتی تھیں ایک ایجنٹ نے دو کروڑ روپے اور پارٹی کے خزانچی کو کئی لاکھ روپے دیئے تھے‘۔

تفتیشی ادارے کی ترجمان نے بتایا کہ اس سودے کے اصل ایجنٹ کو بھی اس مقدملے میں ملزم بنایا گیا ہے۔ سی بی آئی نے بیشتر چھاپے دفاعی سودوں کے ڈیلروں کی رہائش گاہوں اور دفاتر پر مارے ہیں۔

سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈس نے سی بی آئی کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی حکمراں کانگریس پارٹی کے اشارے پر کام کر رہی ہے۔ ’سونیا تہلکہ کی ماں ہیں۔ اور میں انہں چنوتی دیتا ہوں کہ وہ یہ ثابت کریں کہ وہ میں ہی ہوں جسے پیسہ دیا گیا‘۔

 ہندوستان میں مجرمانہ معاملات میں قصور ثابت ہونے کی جو شرح ہے اس کے پیش نظر اس معاملے میں بھی کسی نتیجے کی صرف امید کی جا سکتی ہے۔
سندیپ دیکشت

فرنانڈس سابقہ واجپئی حکومت میں وزیر دفاع تھے اور مارچ 2001 میں تہلکہ کی خفیہ ریکارڈنگ کے انکشافات کے بعد انہیں اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑا تھا۔ لیکن اس وقت بحریہ کے سربراہ سشیل کمار نے ان کی یہ کہہ کر حمایت کی تھی کہ براک مزائلوں کی خریداری کا فیصلہ کئی برس ‍قبل سابقہ حکومتوں نے کیا تھا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہندوستان میں دفاعی سودوں میں عموماً شفافیت نہیں ہوتی اور وہ بہت ہی رازداری میں کیئے جاتے ہیں ۔ تجزیہ کار سندیپ دیکشت کہتے ہیں کہ ’ہندوستان میں مجرمانہ معاملات میں قصور ثابت ہونے کی جو شرح ہے اس کے پیش نظر اس معاملے میں بھی کسی نتیجے کی صرف امید کی جا سکتی ہے‘۔

یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ان معاملات میں جارج فرنانڈس کو ایک بار پہلے بے قصور قرار دیا جاچکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد