فرنانڈس پر سے الزامات واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی حکومت نے سابق وزیرِ دفاع جارج فرنانڈس پر کارگل جنگ میں بدعنوانی کے سلسلے میں عائد الزمات واپس لے لیے ہیں۔ فرنانڈس نے حکومت کے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ وہ بے قصور تھے اور ان کے خلاف ’پروپیگنڈہ‘ کیا گیا تھا۔ کارگل جنگ کے دوران بعض مخصوص دفاعی سازوسامان کی خریدو فروخت میں جارج فرنانڈس پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مسٹر فرنانڈس نے خود وزیراعظم اور صدر سے اس معاملےکی تفتیش کے لیے کہا تھا۔ اس سلسلے میں حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 1992 میں جو بھی جنگی سازوسامان خریدا گیا تھا ان میں کسی بھی طرح کی مالی بےضابطگیاں نہیں ہوئی ہیں۔ حکومت کے اس قدم کے بعد جارج فرنانڈس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ شروع سے کہتے آئے ہیں کہ وہ بے قصور تھے لیکن انہیں بدنام کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا گیا تھا۔ دفاعی سودے بازی میں بد عنوانی کے حوالے سے مسٹر فرنانڈس پر کئی الزمات عائد کيے گئے تھے۔ اسی سلسلے میں’ تہلکہ‘ کی جانب سے انکشافات بھی کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ کارگل میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے ليے جو ’ کفن‘ خریدے گئے تھے اس میں بھی بدعنوانی کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ ان معاملات میں سے بعض کی تفتیش مکمل ہوچکی ہے اور بعض کے متعلق اب بھی تفتیش جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||