BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 October, 2006, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی ٹرین دھماکے، وکیل کو دھمکی

دھماکوں کے بعد ممبئی میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے
ممبئی میں گیارہ جولائی کے ٹرین بم دھماکوں کے ملزمین کے دفاعی وکیل شاہد اعظمی کا کہنا ہے کہ انہیں مافیا سرغنہ روی پجاری کے دھمکی بھرے فون موصول ہو رہے ہیں۔

ایڈوکیٹ شاہد بم دھماکوں کے اہم ملزم فیصل، ان کے بھائی مزمل شیخ اور ملزم ضمیر کے وکیل ہیں۔ شاہد کا کہنا ہے کہ منگل کی شام انہیں ان کے موبائل فون پر کسی نے اپنا نام روی پجاری بتایا اور دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ’منع کیا تھا کہ بم دھماکہ کے ملزمین کا کیس نہیں لڑنا، تو پھر بھی باز نہیں آیا، اب اگر کیس سے الگ نہیں ہوا تو آئندہ بہتر گھنٹوں میں قتل کر دیا جائے گا۔‘

شاہد کے مطابق انہوں نے اس بات کو پہلے سنجیدگی سے نہیں لیا لیکن بدھ کے شب ایک بار پھر انہیں فون موصول ہوا اور اسی طرح کی دھمکی دی گئی جس کے بعد انہوں نے پولیس اسٹیشن میں اس کی تحریری شکایت درج کرائی۔

شاہد کا کہنا ہے کہ انہوں نے عدالت میں ایسے گیارہ حلف نامے داخل کرائے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے ملزمین کی حراست کے دوران ان پر مبینہ تشدد کیا، انہیں غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا اور حقوق انسانی کی کئی خلاف ورزیاں کی گئیں۔

 دیکھیں گے کہ معاملہ کتنا سنگین ہے، اس کے بعد ہی شاہد اعظمی کو سیکورٹی دیے جانے پر غور کیا جائے گا۔
پولیس کمِشنراے این رائے
انکا کہنا ہے کہ وہ ان دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہیں اور کیس سے علیحدہ بھی نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ عدالت کے باہر ان کا تعاقب کرتے ہیں، اس لئے پولیس تحفظ کے لئے وہ پولیس کمشنر سے ملاقات کے لئے گئے تھے لیکن کمشنر بہت مصروف تھے۔

پولیس کمشنر اے این رائے سے جب بی بی سی نے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ بہت مصروف تھے اور یہ کہ ان کی ملاقات شاہد اعظمی سے نہیں ہوئی ہے۔ دھمکی دیے جانے کی خبریں انہیں بھی ملی ہیں لیکن پہلے وہ یہ ’دیکھیں گے کہ معاملہ کتنا سنگین ہے، اس کے بعد ہی سیکورٹی دیے جانے پر غور کیا جائے گا۔‘

پولیس ریکارڈ کے مطابق روی پجاری مافیا سرغنہ چھوٹا راجن کی گینگ سے علیحدہ ہوا ہے اور اس نے اس سے قبل ایڈوکیٹ مجید میمن پر بھی دو راؤنڈ فائرنگ کی تھی جس میں وہ بال بال بچے تھے۔ ایڈوکیٹ مجید میمن انیس سو ترانوے کے بم دھماکوں کے ملزمین کے دفاعی وکیل ہیں۔

پولیس کے مطابق روی پجاری نے ہی فلمساز مہیش بھٹ کے دفتر پر فائرنگ کی تھی۔ مہیش بھٹ اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے حقوق کے لئے ہمیشہ لڑتے رہے ہیں۔

پولیس نے ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں سولہ افراد کو گرفتار کیا تھا لیکن بعد میں تین ملزمین کو ناکافی ثبوت کی بناء پر رہا کر دیا گیا۔ سات ملزمین نے عدالت میں کہا ہے کہ ان سے اقبالیہ بیانات تشدد اور ٹارچر کے ذریعہ لئے گئے تھے۔

اسی بارے میں
زندگی تھم گئی ہے
18 July, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد