جوان اٹھ کھڑے ہوں: نریندر مودی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے کہا کہ ’ملک کی قیادت دہشت گردی سے نمٹنے میں کمزور ہو چکی ہے اس لئے اب دیش کے جوانوں کو اٹھ کھڑا ہونا ہے۔ نریندر مودی نے یہ بات ممبئی کے دورے میں کہی جہاں انہیں ٹرین نیٹ ورک پر بم حملوں کی صورتِ حال کے تناظر میں بی جے پی کی مقامی شاخ نے خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: ’میں جوانوں کے ساتھ آج یہاں دہشت گردی سے لڑنے کا عہد کرتا ہوں۔‘ نریندر مودی نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ ٹرین دھماکوں میں مرنے والے دو سو بھائیوں کے غم میں شریک ہونے آئے ہیں ۔وہ ان کی موت نہیں بھلا سکتے کیونکہ یہ دو سو بے قصور مارے گئے ہیں لیکن انہوں ممبئی شہریوں سے درخواست کی کہ وہ اس آگ کو اپنے اندر جلا کر رکھیں ۔ مودی نے مرکزی کانگریسی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت دہشت گردی کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے ۔اس حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی پوٹا قانون ختم کر دیا جبکہ اسی پوٹا قانون کی ہی وجہ سے ان کی حکومت نے اکثر دھام مندر پر حملے کے مجرموں کو سزا دلائی۔
مودی نے کہا کہ انڈیا کی مرکزی حکومت اقلیتوں کو ناراض کرنے کے ڈر سے کوئی سخت قدم نہیں اٹھاتی ہے جس کے نتیجہ میں یہ دہشت گردی کشمیر سے آگے دیگر ریاستوں میں پھیل رہی ہے۔ مودی نے کہا کہ اگر وہ مرکز میں اقتدار میں آتے ہیں تو دنیا کو دکھا دیں گے کہ دہشت گردی کو کس طرح ختم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کسی ملک کا نام نہ لیتے ہوئے کہا : ’غیر ملکی طاقتیں جو ہمارے ملک میں دہشت پھیلا رہی ہیں اگر سو کروڑ عوام ان کے خلاف آ گئے تو انہیں اس کا نتیجہ بھگتنا ہو گا۔‘ مودی نے شہر کے جوانوں کو اپنے اندر ان دو سو بے گناہ لوگوں کی موت کی آگ کو جلائے رکھنے کی تلقین اور دہشت گردی سے جنگ لڑنے کی اپیل کی ۔ مودی کی آمد کے خلاف سماج وادی کارکنان نے پارٹی لیڈر ابو عاصم اعظمی کی قیادت میں مظاہرہ بھی کیا ۔پولس کے زبردست حفاظتی بندوبست میں مودی سائن ہسپتال میں زخمیوں سے ملاقات کے لئے گئے ۔ مودی اس وقت ریاست گجرات کے وزیر اعلی ہیں اور ان کے اقتدار میں سن دو ہزار دو میں اقلیتوں کا قتل عام ہوا ابھی تک کئی کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور امریکہ اسی وجہ سے مودی کو اپنے ملک میں آنے کا ویزا نہیں دیتا ہے ۔ | اسی بارے میں ’دہشت گردی، سختی ضروری‘16 July, 2006 | انڈیا ’اب امن کا عمل مشکل ہوگیا ہے‘15 July, 2006 | انڈیا پاکستان کیلیئے بھارتی موقف میں سختی15 July, 2006 | انڈیا ’پتہ نہیں اب کہاں سے لاش آئی ہے‘14 July, 2006 | انڈیا ’مجھے میرا بیٹا دیدو‘ ایک ماں13 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||