دلی ڈائری: وزیر خارجہ کیلیئے دوڑ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر خارجہ بننے کی دوڑ نٹور سنگھ کے استعفی کے بعد وزیر خارجہ کا عہدہ ابھی بھی خالی پڑا ہوا ہے لیکن گزشتہ دنوں وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی اس عہدے پر کسی کو مقرر کریں گے۔ اسی وقت سے اس عہدے کے لیئے بھاگ دوڑ شروع ہوگئی ہے۔ وزیر خارجہ کے امیدواروں میں سب سے پہلا نام پرنب مکھرجی کا لیا جارہا ہے جنہیں سونیا گاندھی اور وزيراعظم دونوں کا اعتماد حاصل ہے اور وہ نرسمہا راؤ کے زمانے میں وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں۔ مکھرجی کے علاوہ کپل سبل، سابق خارجہ سیکریٹری ایم کے رسگوترا، پی چدامبرام اور کرن سنگھ بھی اس دوڑ میں شامل ہیں لیکن وزیراعظم نے ابھی تک کوئی اشارہ نہیں کیا ہے۔ وزارت داخلہ کی کار دیوالی کے تہوار پر دلی میں حفاظت کے بڑے سخت انتطامات کیے گئے تھے لیکن دیوالی سے پہلے وزارت داخلہ کے دو اہلکاروں کی کاروں کی چوری سے سکیورٹی کے اداروں میں بھگڈر مچ گئی ہے۔ ان کاروں پر تمام اہم اور حساس مقامات پر جانے کے لیئے وزارت داخلہ کے’پاس‘ لگے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں کاریں الگ الگ مقامات سے چوری ہوئیں اور بظاہر یہ معمولی کار کی چوری کا معاملہ نظر آتا ہے لیکن پولیس ان پر وزارت داخلہ کے پاس لگے ہونے کی وجہ سے کافی پریشان ہے کہ کہیں انہیں دہشت گردی کے مقصد کے لیئے استعمال نہ کیا جائے۔ دفاعی تحقیق کی بدحالی دفاعی تحقیق کے ادارے ڈی آر ڈی او کے اوپر آج کل برے دن آئے ہوئے ہیں۔ ملک کے اس باوقار ادارے کو دفاعی سازوسامان ملک کے اندر بنانے کے لیئے تحقیق کی ذمہ داری دی گئی تھی لیکن اس کا ریکارڈ اتنا خراب رہا ہے کہ اب اس پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔
ڈی آر ڈی او نے سنہ 2000میں اسرائیلی ساخت کے براک میزائلوں کی خریداری کی یہ کہہ کر مخالفت کی تھی کہ اس کا بنایا ہوا ترشول میزائل جلد ہی تیار ہوجائےگا۔ اگر بحریہ نے اس پر یقین کیا ہوتا تو وہ آج بغیر میزائل کے ہوتی۔ ترشول میزائل کا کام 1983 میں شروع ہوا اور کئی ’ کامیاب‘ تجربوں کے بعد ابھی تک تیار نہیں ہوسکا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس کی تیاری کے لیئے حکومت نے اب ادارے کو ایک برس کی مہلت دی ہے۔ اس طرح آکاش میزائل اور ناگ ٹینک شکن میزائل 1983 میں شروع کیا گیا لیکن ابھی تک تیار نہیں ہوسکا۔ 1974 سے بننے والا ارجن ٹینک قابل استمعال نہیں پایا گیا۔ یہ ادارہ ایک ہلکا جنگی طیارہ تیئیس برس سے بنا رہا ہے۔ تین برس کے بعد اس کا فائنل تجربہ ہونا ہے۔ ظاہر ہے یہ ریکارڈ اچھا تو نہیں ہے۔ تیز رفتار ترقی حکومت نے معیشت کے موجودہ بہتر رجحان کو دیکھتے ہوئے اقتصادی ترقی کی رفتار کو مزید تیز تر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن نے گزشتہ دنوں دوہزار سات سے دو ہزار بارہ تک کے جس منصوبے کی منظوری دی اس کے تحت مجموعی ترقی کی شرح کا ہدف نو فی صد طے کیا گیا ہے۔ حکومت افراط زر کو چار فی صد پر برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ آئندہ پانچ سال میں زرعی پیداوار کو دوگنا کرنے، سات کروڑ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے اور غریب لوگوں کی تعداد گھٹا کر دس فی صد تک نیچے لانے کا منصوبہ ہے۔
سیاحوں کا استقبال سیاحت کے فروغ کے لیئے حکومت جلد ہی متعدد ملکوں کے سیاحوں کو بار بار آنے جانے کے لیئے ملٹی انٹری دس سال کا ویزا جاری کر رہی ہے۔ اسی طرح سیاحت ہندوستان کی معیشت کا ایک اہم سیکٹر بن کر ابھر رہا ہے۔ اس سے لاکھوں لوگوں کو ملازمت ملی ہوئی ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں ہر سال تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس سے ملازمت کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں اور کئی بلین ڈالر کا غیر ملکی زرمبادلہ حاصل ہو رہا ہے۔ |
اسی بارے میں دلی ڈائری: ملا کی سیاست اور مونسون کی آمد21 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔05 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو09 April, 2006 | انڈیا دلی: جامع مسجد میں دھماکے14 April, 2006 | انڈیا اندھیر دلی،چوٹالہ راجہ اور انٹر نیٹ07 May, 2006 | انڈیا دلی میں گول میز مذاکرات شروع25 February, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||