کشمیر: مسجد پر بم حملہ، 5 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں عالم دین پر نماز جمعہ کے دوران قاتلانہ حملے میں تین کمسِن لڑکیوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں اورچالیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر سری نگر سے بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ سرینگر میں بھی نمائشگاہ کے قریب ایک گرینیڈ حملہ ہوا ہے جس میں نیم فوجی دستوں کے تین اہلکار سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہونے والا حملہ جمعہ کے روز اُس وقت ہوا جب علاقہ کےمعروف عالم دین مولانا عبدالرشید داؤدی ٹہاب نامی بستی کی جامع مسجد میں خصوصی خطبہ کے لیے جارہے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں شامل تین لڑکیوں سلیمہ، شیرازہ اور بسمہ کی عمر تیرہ سال بتائی جاتی ہے جبکہ عمر مقبول کی عمر بارہ سال تھی۔ حملے میں ہلاک ہونے والے پانچویں شخص کا نام نثار غنی بتایا جاتا ہے۔ ابتدا میں پولیس نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھ بتائی گئی تھی لیکن بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ شازیہ نامی ایک خاتون ابھی تک زندہ ہے۔ تاہم شازیہ کی حالت بھی انتہائی نازک بتائی جاتی ہے۔
جنوبی کشمیر کے ڈی آئی جی پولیس ایچ کے لوہیا نے بی بی سی کو بتایا کہ نماز جمعہ کے سلسلے میں کافی لوگ مسجد کے باہر بھی جمع تھے اور ایک نامعلوم شخص نے اس بیچ مولانا عبدالرشید دواؤدی کی طرف دستی بم پھینکا جو لوگوں کے بیچوں بیچ زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ انہوں نے گرینیڈ پھینکنے والے کو پکڑلیا ہے اور اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز اس شخص کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کررہی ہیں۔ بعض عینی شاہدین نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ بم حملے کے بعد خون میں لت پت لوگوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ ضلع ہسپتال پلوامہ کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکڑ محمد اشرف کار کے مطابق بتیس لوگوں کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا جن میں سے دو کم سن لڑکیوں سمیت چار افراد زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھے۔ ضلع اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے مولانا داؤدی اُن دو مسالک گروپوں میں سے ایک گروپ کے رہنما ہیں جن کے درمیان پچھلے چند ماہ سے محاز آرائی جاری ہے۔ ڈی آئی جی پولیس ایچ کے لوہیا نے بتایا کہ حملے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جارہی ہے، ’تاہم گروپ رائولری‘ کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ واضح رہے پچھلے ماہ داؤدی اور دوسرے گروپ کے حامیوں کے درمیان ایک دینی اجتماع کے انعقاد کو لے کر پُر تشدد تصادم ہوا تھا۔ جمعہ کی شام پولیس نے معمول کے اپنے ایک پریس ریلیز میں دعویٰ کیا کہ حزب المجاہدین اس حملے کی ذمہ دار ہے۔ لیکن حزب کے ترجمان نے فون کے ذریعے نامہ نگاروں کو بتایا: ’یہ کشمیری مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی انڈین ایجنسیز کی ایک سازش ہے۔‘ سری نگر دستی بم حملہ سری نگر کے گرینیڈ دھماکے کے بارے میں حکام نے بتایا ہے کہ اس میں تین فوجیوں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ گرینیڈ دھماکہ سری نگر کی ہری سنگھ ہائی سٹریٹ میں ایک نمائش گاہ کے قریب پیش آیا ہے۔ اسی نمائش گاہ میں آج ریاست کے وزیر اعلی غلام نبی آزاد کشمیری ہینڈی کرافٹ کی ایک سالانہ نمائش کا افتتاح کرنے والے تھے۔ | اسی بارے میں ’تین مشتبہ شدت پسند ہلاک‘24 October, 2006 | انڈیا کشمیر میں فوجی سمیت تین ہلاک14 October, 2006 | انڈیا کشمیر: دو شدت پسند ہلاک13 October, 2006 | انڈیا کشمیر: تین خواتین سمیت 6 ہلاک05 November, 2006 | انڈیا جموں میں دھماکہ خیز مواد برآمد04 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||