’تین مشتبہ شدت پسند ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے جموں علاقے میں پولیس نے کم از کم تین مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دارالحکومت سرینگر کے نزدیک بھی تشدد کا ایک واقعہ ہوا ہے جس میں پولیس نےایک احتجاجی ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے گولیاں چلائيں اور آنسو گیس کا استمعال کیا۔ ادھر منگل کی صبح سرینگر کے نزدیک نوگام کے علاقے میں پولیس کی گاڑی سے کچل کر دو شہری ہلاک ہو گئے۔ باپ اور بیٹے کی ہلاکت کے خلاف مقامی افراد سڑک پر نکل آئے اور احتجاجی مظاہرے شرع کر دیئے۔مشتعل مظاہرین نے پولیس کی گاڑی کو آگ لگا دی اور پتھراؤ بھی کیا۔ دوسری جانب بارہ مولہ کے علاقے میں مشتبہ شدت پسندوں نے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا۔ پولس کے مطابق ہلاک ہونےوالے افسر محمد حنیف، شدت پسندی کے خلاف تشکیل دی گئی سپیشل ٹاسک فورس کے ممبر تھے۔ ادھرجموں میں ڈوڈہ پولیس نے تین مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک شدت پسند حزب المجاہدین کا ایک سینئر کمانڈر تھا۔ایک سینئر پولیس اہلکار منوہر سنگھ کے مطابق جموں سے تقریبا دو سو کلومیٹر دور واقع دھار کے علاقے میں پولیس اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب پولیس اس علاقے میں تلاش کی کاروائی میں مصروف تھی۔ پولیس کے مطابق یہ تصادم تقریبا تین گھنٹے تک جاری رہا۔ پولیس نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے شخص کا نام مشتاق احمد ہے اور وہ شدت پسند گروپ کا ڈویژنل کمانڈر تھا۔ | اسی بارے میں کشمیر میں فوجی سمیت تین ہلاک14 October, 2006 | انڈیا شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ16 August, 2006 | انڈیا کشمیر میں ہڑتال سے زندگی متاثر 29 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||