BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 October, 2006, 12:39 GMT 17:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیر سےدس ہزار افراد لاپتہ‘
گمشدہ افراد کے بارے میں ایف آئی آر بھی درج نہیں کی جاتی: اے پی ڈی پی
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لاپتہ افراد کے والدین اور لواحقین کی تنظیم ’اے پی ڈی پی‘ کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ دہائیوں میں تقریباً دس ہزار افراد لاپتہ ہو ئے ہیں جبکہ حکومت صرف سات سوو تینتالیس (743) افراد کی گمشدگیوں کا اعتراف کرتی ہے۔

بی بی سی اردو سروس کی طرف سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت میں شورش کے دوران لا پتہ افراد کے لیئے کیئے گئے خصوصی پروگرام میں ریاست جموں اور کشمیر کے وزراء‘ فوج کے نمائندے اور گمشدہ افراد کے والدین اور لواحقین کی ایک بڑی تعداد شرکت کی۔

ریاست کی حکومت کے سابق نائب وزیر اعلی اور سینیئر وزیر منگت رام شرما، ریاستی وزیر قانون طارق حمید قرع اور بھارتی فوج کے ترجمان کرنل ماتھر نے اے پی ڈی پی کے اعدادو شمار کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

منگت رام شرما نے لاپتہ افراد کے بارے میں حکومتی اعدادو شمار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ایجنسیوں کی طرف سے جواعدادو شمار انہیں فراہم کیئے گئے ہیں ان کے مطابق پولیس یا فوج کی حراست سے ایک سو آٹھ افراد لا پتہ ہو گئے۔

 ہندوستانی جیلوں کے چکر کاٹتے کاٹتے میرے پیر گھس گئے۔ میرا بیٹا نہ جیل میں ہے نہ قبرستان میں۔ مجھے لاش ہی دے دیں۔
پروینہ آہنگر، لاپتہ بیٹے کی ماں

وزیر قانون طارق حمید قرع نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ دہائیوں میں کشمیری معاشرے میں ’گمشدگیوں‘ کا ایک نیا لفظ سننے میں آیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک تاثر یہ ہے کہ کشمیر سے ہزاروں افراد لا پتہ ہو گئے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔

گمشدہ افراد کے لواحقین کی تنظیم کے رکن پرویز امروز نے کہا کہ وادی اور جن علاقوں میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ نافذ ہیں وہاں کرائے جانے والے ایک سروے کے مطابق دس ہزار افراد لاپتہ ہیں۔

لاپتہ افراد کے لواحقین نے وزراء کا گھیراؤ کیا

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں گمشدہ افراد کی تعداد چین میں ’تینامن‘ سکوائر کے واقعے کے بعد لاپتہ ہونے والے افراد یا تھائی لینڈ میں اٹھائے جانے والے افراد سے بھی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین جہاں گزشتہ نصف دہائی سے ایک جدوجہد جاری ہے وہاں بھی گمشدگیوں کا کوئی تصور نہیں ہے۔

گمشدہ افراد کے کئی لواحقین نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ان کے بھائی، بیٹوں یا شوہروں کو پولیس یا فوج اٹھا کر لے گئی اور اس کے بعد ان کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی۔

گمشدہ افراد کے اس پروگرام میں گمشدہ افراد کے لواحقین اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان جموں اور کشمیر میں تعینات بھارتی فوج اور سکیورٹی فورسز کی تعداد کے بارے میں اختلاف پایا گیا۔

پرویز امروز نے کہا کہ ایک اندازےکے مطابق کمشیر میں سات لاکھ بھارتی فوج، ستر ہزار کے قریب پولیس اور تیس ہزار کے قریب نیم فوج دستے تعینات ہیں۔

نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی فوج کی صرف دو کور تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک کور میں ساٹھ سے ستر ہزار کے قریب فوجی ہوتے ہیں۔

پرویز امروز نے پولیس کی طرف سے ایف آئی آر درج نہ کرنے پر کہا کہ ریاست عملی طور پر فوج کے کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج ریاست کی حکومت کے سامنے جوابدہ ہی نہیں ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ انسانی حقوق کے کیسوں میں پولیس کو زبانی ہدایات ہیں کہ وہ کیس درج نہ کریں۔

دوسری طرف کرنل ماتھر نے جو پروگرام میں کچھ تاخیر سے تشریف لائے کہا کہ ہر باوردی شخص کو فوجی تصور کرنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کبھی بغیر وردی کے کارروائی نہیں کرتی اور بعض اوقات تنظیموں کے لوگ بھی فوج کی وردی میں کارروائیاں کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
وہ ہيں کہاں؟
28 October, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد