وہ ہيں کہاں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
۔ کسی بھی شخص کو گرفتار کر نے کے وقت اس شخص کو بتایا جائے کہ اسے کیوں گرفتار کیا جا رہا ہے؟ ۔ گرفتار کرنے والے کو یہ بھی بتایا جائے کہ اسے گرفتار کون کر رہا ہے۔ ۔گرفتار کرنے والے اور اس کے لواحقین کو یہ بھی بتایا جائے کہ اسے کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ ۔ گرفتار ہوئے شخص کو اپنے لواحقین سے رابطہ قائم کرنے کا حق ہے۔ ۔ پولیس اسٹیشن میں گرفتار کئے گئے شخص کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور اسے وہاں کتنی دیر رکھا جائے گا یہ بھی بتایا جائے۔ سرکردہ وکیل اشوک اگروال کا کہنا ہے کہ یہ اصول و ضوابط سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیئے گئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ گزشتہ کئی برسوں سے ان ضوابط کو عمل میں لانے کے لیئے ریاستی حکومت پر زور دے رہی ہے۔ لیکن مسٹر اگروال کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تمام ہدایات زبانی طور پر دی جاتیں ہیں لہذا ان پر عمل نہیں ہوتا۔ ہندوستان میں کشمیراور شمال شرقی ریاستوں کا شمار ’حساس‘ علاقوں میں ہوتا ہے ۔ یہاں حکومت نے حالات معمول بنائے رکھنے کے لیئے فوج اور پولیس کو خصوصی اختیارات دئے ہیں۔ لیکن بعض جائزوں اور رپورٹوں سے یہ واضح ہوا ہے کہ ان خصوصی اختیارات کے سبب ان علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی رہتی ہے۔ انسانی حقوق کے لیئے کام کرنے والے کارکن گوتم نولکھا کا کہنا ہے کہ قانون کے رکھوالے ہی اگر قانون کی خلاف ورزی کریں تو عام آدمی کے پاس کوئی راستہ نہیں رہ جاتا ہے اور قانون کا بھی کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سپریم کورٹ نے کئی بار یہ حکم دیا ہے کہ اگر کسی کو گرفتار کیا گیا ہے تو چوبیس گھنٹے کے اندر اس کے گھروالوں کو اس کے بارے میں خبر دینا چاہئے لیکن صرف ہندوستان کے زير انتظام جموں کشمیر کی ہی بات کریں تو یہاں کئی برس گزر جانے کے بعد بھی گرفتار کیئے گئے شخص کے بارے میں کچھ پتہ نہيں چلتا پاتا ہے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندوستان کے زير انتظام جموں کشمیر میں حکومت سمجھتی ہے کہ صرف ’سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی‘ اور ’پس پردہ‘ جنگ کے علاوہ دوسرا کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں جبکہ وہاں سب سے بڑا مسئلہ ریاستی دہشتگردی کا ہے۔ سیئنر صحافی پرفل بدوائی کہتے ہیں کہ ہندوستان کی عدالتوں میں حبس بےجا یعنی ’ہیبیس کارپس‘ کی درخواست کے تحت کوئی بھی شخص جو لاپتہ ہے اسے عدالت میں پیش کرنا لازمی ہوتا ہے اور اگر اسے پیش نہیں کر پاتے ہیں تو یہ بتانا پڑتا ہے کہ آخر وہ ہے کہاں۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں بیشتر کو اس درخواست کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’وہاں ایک دہشت کا ماحول ہے اور جس کے سبب لوگ بھی قانونی طریقے اپنانے کے لیئے تیار نہيں ہیں۔‘ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ایک متنازعہ خطے (جموں کشمیر) میں سرکاری طور پر چار ہزار اور حقوق انسانی کی تنظیموں کے مطابق تقریباً دس ہزار لوگ لاپتہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے چارٹرز اور خود ہندوستان کے اپنے جمہوری اداروں کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ ہزآروں لوگ آج بھی گمشدہ ہیں اور گمشدہ افراد کے لواحقین برسوں سے صرف یہ جاننا چاہتے ہيں کہ آخر وہ ہیں کہاں۔ ہو سکتا ہے کہ اس سوال کا جواب آج نہ ملے لیکن دنیا میں اس طرح کے حالات سے متاثرہ علاقوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حقیقت تاخیر سے ہی صحیح لیکن سامنے ضرور آئی ہے۔ | اسی بارے میں حراست میں موت پرتحقیقات 22 October, 2006 | انڈیا کشمیر کے گمشدہ: سونو اور ماسٹر ثنااللہ گنائی22 October, 2006 | انڈیا ’جاتے وقت کہہ گیا تھا کہ آج پالک پکانا‘23 October, 2006 | انڈیا ’تین مشتبہ شدت پسند ہلاک‘24 October, 2006 | انڈیا کشمیری خواتین کا کردار بدل رہا ہے25 October, 2006 | انڈیا لاپتہ: مردہ قرار دینے کا قانون26 October, 2006 | انڈیا سرینگر: لاپتہ افراد پر پروگرام 28 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||