نعیمہ احمد مہجور بی بی سی اردو، سری نگر |  |
کشمیر میں لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین سے بات کرنا اور ان کی داستانیں سننا جتنا دشوار تھا اس سے زیادہ دشوار یہاں کے سینیئر وزیروں سے بات کرنا تھا۔ لواحقین بے بس اور بے سہارا تو ہیں ہی لیکن وزیر اتنے بےبس اور اتنے بے اختیار ہوں گے اس کا احساس مجھے پروگرام کے دوران ہی ہوا۔ وزیر صاحبان محض بھارتی حکومت کے تاش کے پتے تھے جنہیں کسی بھی وقت ترپ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ یہ تاثر ملے کہ کشمیر میں اقتدار سول انتظامیہ کے ہاتھوں میں ہے۔ فوجی ترجمان کا پروگرام میں دیر سے داخل ہونا اور فوج پر لگے الزام کو سرے سے مسترد کرنا وزیروں کے لیے فکر مندی کا باعث تھا۔ مگر مجال تھی کہ وزیر ان کی درستی کرتے؟ بے بس اور لاچار لواحقین ہمت اور حوصلے سے اپنی بات اعلی ایوانوں تک پہنچا رہے تھے۔ کچھ کے آنسو خشک ہو گئے ہیں مگر ان کے چہروں سے عیاں تھا کہ وہ دل کے آنسو رو رہے ہیں۔ میں دل ہی دل میں ان کی ہمت اور حوصلے کی داد دے رہی تھی۔ ہاجرہ نے تاب و تحمل سے اپنے چار بیٹوں کی دلدوز داستان آج بھی دہرائی مگر ان کے سامنے بیٹھے سرکاری اہلکار کتنے چھوٹے قد کے لگ رہے تھے۔ وہ اتنا بھی نہیں کہہ پائے کہ ہم آپ کے بیٹوں کے بارے میں پتہ لگائیں گے۔ درجنوں عورتوں نے اپنے عزیزون کی تصویروں کو اپنے سینے سے لگا رکھا تھا اور پوچھ رہی تھیں کہ ’جیل میں قید نہیں، قبرستان میں دفن نہیں، پھر کہان ہیں؟‘ سیکیوریٹی فورسز مانتے نہیں کہ ان کے عزیز لاپتہ ہو گئے ہیں۔ پولیس ایف آئی آر درج نہیں کرتی۔ عدالتوں میں کوئی سنتا نہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی آواز بندوق کے سائے میں دب گئی ہے۔ مگر راجہ، حلیمہ، پروینہ اور ان جیسی ہزاروں عورتیں کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنے ماتھے پر ’ڈس اپیرڈ‘ کی پٹی باندھ کر چلا کر ہر ایک سے تاقیامت سوال کرتی رہیں گی ’میرے بچے کو زمین کھا گئی یا آسمان؟‘
|