دورۂ پاکستان’ایک دھوکہ‘: علی گیلانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِانتظام جموں اور کشمیر میں علیحدگی پسند حریت کانفرنس کے سخت گیر رہنما سید علی شاہ گیلانی نے اعتدال پسند رہنماؤں کے مجوزہ دورۂِ پاکستان کی مخالفت کی ہے۔ علیحدگی پسند اتحاد آل پارٹیز حریت کانفرنس کا ایک تین رکنی وفد میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں پانچ روزہ دورہ پر پاکستان جا رہا ہے، جبکہ علی گیلانی اس دورے کو ایک دھوکہ قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے دو حصوں کے قائدین مسئلہ کشمیر کے حل کا کم سے کم مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں میر واعظ عمر فاروق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق کے ساتھ ملاقات بھی کرینگے۔ جموں میں چار روزہ قیام کے بعد یہ وفدر نئی دلّی روانہ ہوگا جہاں وہ آئندہ بدھ کو ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ممکنہ ملاقات کے بعد پاکستان کے دورہ پر روانہ ہوگا۔
علی گیلانی نے اس دورے کی مخالفت میں آئندہ بدھ کو وادی اور جموں کے مسلم اکثریت والے اضلاع میں عوام سے ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے میر واعظ عمر فاروق پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ہندوستان کے مفاد کے لیے ہند و پاک بات چیت کے عمل کا آغاز کر رہے ہیں۔ حریت کانفرنس کے اعتدال پسند گروپ کے ایک سینئر رہنماء مولوی محمد عباس انصاری نے علی گیلانی کے الزام کو رد کرتے ہوئے اسے قابل افسوس قرار دیا ہے۔ عباس انصاری کا کہنا ہے کہ ہمارا گروپ یہ وضاحت کر چکا ہے کہ پہلے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان علیحدہ بات چیت ہو جائے، اس کے بعد تینوں فریقین ہندوستان ، پاکستان اور کشمیری عوام کے نمائندے باہم بیٹھ کر مسئلہ کشمیر کا حتمی حل تلاش کریں گے۔ | اسی بارے میں کشمیر، فوجی کارروائی تیز ہوگی‘12 January, 2007 | انڈیا کشمیرمیں ملاقاتوں کا دورجاری 05 January, 2007 | انڈیا جموں میں چار شدت پسند ہلاک04 January, 2007 | انڈیا کشمیر میں ہزاروں کا احتجاج27 December, 2006 | انڈیا اڈوانی کومشرف کا فارمولہ منظور نہیں24 December, 2006 | انڈیا منموہن:’نئی تجاویز کا خیر مقدم‘17 December, 2006 | انڈیا کشمیر پر بھارت کی خاموشی12 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||