اڈوانی کومشرف کا فارمولہ منظور نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنمالعل کرشن اڈوانی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے اس بیان کی مخالفت کی ہے جس میں انھوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کسی بھی تجویز کا خیر مقدم کر نے کی بات کہی تھی۔ حال ہی میں منموہن سنگھ نے پاکستان کے صدر پرویز مشرف کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے چار نکاتی فارمولے کا خیر مقدم کیا تھا۔ مسٹر اڈوانی نے کہا ہے کہ صدر مشرف کی طرف سے پیش کیے گئے فارمولہ میں اس کشمیر کو آزاد کرنے کی بات ہے جو ہندوستان کے پاس ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان کے وزیر خارجہ کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت نے پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بعض غیر رسمی دستاویزات پیش کیے ہیں۔ اڈوانی نے یہ بات لکھنؤ میں بی جے پی کی تین رزہ قومی مجلسِ عاملہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت نے جوغیر رسمی دستاویزات پاکستان کو دی ہیں ان کو پاکستان کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات سے پہلے پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہیے۔ پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے اعلان کیا ہے ملک کے اتحاد اور اس کی سالمیت کی حفاظت کے لیے بی جے پی کے ہزاروں کارکن کشمیر جاکر ان تجاویز کے خلاف مظاہرہ کریں گے۔ گزشتہ روز پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ پارٹی ایک مرتبہ پھر ہندو قوم پرستی کی پالیسی اپنا رہی ہے۔ پارٹی نے ایک بار پھر عوام سے یہ وعدہ کیا ہے کہ اگر اسے 2009 کے پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل ہوئی تو وہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کرنے کے لیے ایک نیا قانون بنائےگی۔ | اسی بارے میں ’قوم پرستی کی جانب واپسی‘23 December, 2006 | انڈیا وزیراعظم سے معافی کا مطالبہ 11 December, 2006 | انڈیا ’بھارت پاکستان میں کارروائی کرے‘13 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||