BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 December, 2006, 11:29 GMT 16:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیراعظم سے معافی کا مطالبہ
ہندوستانی پارلیمان
حزب اختلاف کی جماعتوں نے پارلیمان میں ہنگامہ آرائی کی
ہندوستان کی حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور شو سینا نے وزیراعظم منموہن سنگھ کےاس بیان پر معافی کا مطالبہ کیا ہے جس میں انہوں نےمسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو وسائل کی حصے داری میں ترجیح دینے کی بات کہی تھی۔


پیر کو جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے’وزيراعظم معافی مانگيں‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔حزب اختلاف نے وزیر اعظم پرالزام عائد کیا کہ وہ ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لوک سبھا میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما وی کے ملہوترا نے اس موضوع پر بحث کے لیے وقفہ سوالات کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا۔

حزب اختلاف کی ہنگامہ آرائی کےسبب پہلےتھوڑے وقفے کے لیےایوان کی کارروائی ملتوی کی گئی لیکن جیسے ہی کارروائی پھر شروع ہوئی نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی پھر شروع ہو گئی۔آخر کاردونون ایونوں کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔

 ہفتے کے روز وزير اعظم منموہن سنگھ نے قومی ترقیاتی کونسل کےاجلاس میں کہا تھا کہ اقلتیوں اور خاص طور پرمسلمانوں کو ملک کی ترقی میں مساوی حصہ داری دی جانی چاہیئے

ہفتے کے روز وزير اعظم منموہن سنگھ نے قومی ترقیاتی کونسل کےاجلاس میں کہا تھا کہ اقلتیوں اور خاص طور پرمسلمانوں کو ملک کی ترقی میں مساوی حصہ داری دی جانی چاہیئے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مسلمانوں کو اس حد تک مضبوط بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ ملک کی ترقی میں برابر کے حصّے دار بن سکیں۔

حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو ترجیح دینے کی بات دراصل وزیراعظم آئندہ اسمبلی کے انتخابات کے پیش نظر کر رہے ہیں اور انکی نظرمسلمانوں کے ووٹ پر ہے۔

وزیراعظم کے بیان پر سیای حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے ۔وزیر اعظم کےدفتر کی جانب سے بھی ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے جس میں یہ کہا گیا کہ مسٹر سنگھ کے بیان کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے انہوں نےصرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ ملک کےسبھی کمزور اور پسماندہ طبقوں کے بارے میں یہ بات کہی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد