BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 December, 2006, 16:05 GMT 21:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسلم شراکت بڑھنی چاہیے‘
منموہن سنگھ
میری حکومت کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ اقلیتیں اور پسماندہ لوگ ترقی کرسکیں
ہندوستان کے وزير اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو ہرطرح کی سہولیات پر پہلا حق ہونا چاہیے تاکہ وہ خاطر خواہ ترقی کرسکیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو اس حد تک مضبوط بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ ملک کی ترقی میں برابر کے حصّے دار بن سکیں۔

دلی میں قومی ترقیاتی کونسل کے ایک اجلاس کے دوران وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ اقلتیوں اور ديگر پسماندہ طبقوں کو تعلیم، صحت، بجلی، پانی اور ترقی کے لیے ضروری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی پہلی اور اہم ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ 11ویں پانچ سالہ منصوبے میں اس بات پر خصوصی توجہ دی جائیگی کہ اقلیتیں دلت، قبائیلی، پسماندہ طبقے، عورتیں اور بچے ملک کی ترقی میں اہم رول اداکرسکیں اور انکا کرداد بڑھ سکے۔

 وزیر اعظم کو صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ اقتصادی طور پر پچھڑے سبھی طبقوں کو ملک کی ترقی کا حصہ دار بنانے کی بات کہنی چاہیۓ تھی۔ ایسی بات تو کوئی اسلامی ملک بھی نہیں کہےگا کہ ملک کی ترقی میں مسلمانوں کی پہلی حصہ داری ہو۔
بی جے پی لیڈر وی کے ملہوترا

مسٹر سنگھ نے کہا ' ملک کی ترقی میں اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کی حصہ داری بڑھانے کے لیے حکومت کو نئے نئے منصوبے تیار کرنے ہوں گے تاکہ ترقی کی لئے فراہم کی گئی سہولیات پر ان سبھی طبقوں کا پہلا حق ہواور ملک کی ترقی میں وہ برابر کا رول اداکر سکیں۔

وزیر اعظم کے بیان پر حزب اختلاف کی جماعت بھاریتہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر وی کے ملہوتر کاکہنا ہے کہ ' وزیر اعظم کو صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ اقتصادی طور پر پچھڑے سبھی طبقوں کو ملک کی ترقی کا حصہ دار بنانے کی بات کہنی چاہیۓ تھی۔ ایسی بات تو کوئی اسلامی ملک بھی نہیں کہےگا کہ ملک کی ترقی میں مسلمانوں کی پہلی حصہ داری ہو۔،

انکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے مسلمانوں کے ووٹ لینے کے لیے ایسی بات کہی ہے ۔

اس اجلاس میں 11ویں پانچ سالہ منصوبہ کا مسودہ تیار کرنا تھا۔

مسٹر سنگھ نے اجلاس میں سبھی ریاستوں سے اپیل کیا ہے کہ ملک کی ترقی کی شرح سالانہ 9 فیصد کرنے میں وہ مدد کریں۔

انکا کہنا تھا کہ اس ہدف کو حاصل کرنا آاسان نہیں ہے اور اس کے لیے ریاستی سطح پر بعض پالیسیوں میں ایسی تبدیلیاں لانی ہوں گی جس سے نو فیصد کی شرح ترقی آسان ہوجائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد