انڈیا کی جیلوں میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں بعض غیر سرکاری جائزوں کے مطابق ملک کی بیشتر جیلوں میں تیس فیصد سے زیادہ مسلمان قیدی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی کی مناسبت سے جیلوں میں مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد تشویش ناک ہے اور اس کے لئے عدلیہ اور پولس کا ’تعصبانہ رویہ‘ ذمہ دار ہے۔ ہندوستان میں سرکاری عدادوشمار کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کی آبادی ساڑھے بارہ فیصد ہے۔ لیکن اگر ملک کی جیلوں کی بات کریں تو یہاں مسلمانوں کی تعداد تیس فی صد سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ دلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں کی جیلوں میں تو حالات اس سے بھی خراب ہیں جہاں پینتیس سے چالیس فیصد قیدی مسلمان ہیں۔ کشمیر ٹائمز اخبار کے بیورو چیف افتخار گیلانی نے ’مائی ڈیز ان پریزن‘ کے نام سے دلی کی تہاڑ جیل پر ایک کتاب لکھی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ گزشتہ دس برس کے دوران ہندوستان کی جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مسٹر گیلانی نے بی بی سی کو بتایا: ’ہر برس رمضان سے قبل دلی کی تہاڑ جیل میں مسلمانوں کی اصل تعداد پتہ کی جاتی ہے۔ اس برس اعداد و شمار کے مطابق پوری جیل میں قیدیوں کی تعداد چودہ ہزار تین سو اٹھائیس تھی جس میں سے پانچ ہزار چھ سو بیس مسلمان تھے۔‘ سنٹر فار ہیومن رائٹز اینڈ لاء سے تعلق رکھنے والے وجے ہلمٹ ممبئی کی مختلف جیلوں میں گزشتہ کئی برسوں سے کام کر رہے ہیں۔ مسٹرہلمٹ کا کہنا ہے کہ ممبئی کی جیلوں میں تقریبا چالیس فیصد مسلمان قیدی ہیں۔ دلی میں جیل انتظامیہ سے کئی بار راطبہ کرنے کی کوشش کے باجود وہاں سے جواب موصول نہیں ہوا سکا۔
سیئنر صحافی پرفل بدوائی کا کہنا ہے کہ یہ انہتائی افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان میں ساڑھے تیرہ فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے جبکہ ہندوستان کی جیلوں ميں مسلمانوں کی تعداد چالیس فی صد سے زيادہ ہے۔ پرفل بدوائی کا کہنا ہے: ’ہندوستان کی ذیلی عدالتوں اور محکمہ پولیس میں مسلمانوں کے تيئں تعصب پایا جاتا ہے جس کے سبب مسلم برادری کے ساتھ انصاف نہيں ہو پاتا ہے۔ جیلوں ميں تقریبا ساٹھ فیصد ’انڈر ٹرائل‘ ملزم ہو تے ہیں اور پچھلے دس برسوں میں ٹاڈا اور پوٹا جیسے قوانین کے تحت بہت لوگوں کو بلا وجہ بند کر دیا گیا جس میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے پوچھ گاچھ کے لیے مسلمانوں کو ہی پکڑا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکن گوتم نولکھا کہتے ہیں: ’ مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک ایک عام بات ہے اور یہ پولیس کا دوہرا میعار ہی ہے کہ ایک برادری کو جیل میں رکھا جاتا ہے اور دوسری کو سنگین سے سنگین جرم میں بھی آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘ گزتم نولکھا کا کہنا ہے کہ اس قسم کی بے انصافی ختم کرنے کے لیے انتظامیہ اور پولیس کو جواب دہ بنانے کی ضرورت ہے۔ پرفل بدوائی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی حالت کے لیے حکومت نے جو سچّر کمیٹی تشکیل دی ہے اس کے سروے سے جیلوں کی صحیح صورتحال سامنے آنے کی توقع ہے اور اسی کی سفارشات سے اصلاحات کا بھی امکان ہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض شعبوں میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہ ایک عام بات ہے کہ ملک کی بیشتر جیلوں میں مقررہ تعداد سے زیادہ قیدی ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے ملزم جنکی سزا پانچ یا چھ برس ہونی چاہیئے وہ اس سے دگنے سالوں سے جیل میں ہیں کیونکہ نہ تو کوئی انکی ضمانت لینے کو تیار ہے اور نہ ہی ان کے پاس اتنے پیسے ہیں کو وہ اپنامقدمہ لڑ سکیں۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے ایسے قیدیوں کی ایک فہرست تیار کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ان کے ساتھ انصاف ہو سکے۔ نجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت اور مسلم لیڈروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پہلو پر توجہ دیں کہ جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد کیوں زيادہ ہے اور حکومت کچھ ایسے اصول و ضوابط جاری کرے جس سے مسلمانوں کے ساتھ اس قسم کا سلوک نہ برتا جائے۔ | اسی بارے میں اسلام مسلمانوں کی نظر میں09 January, 2005 | Debate امریکہ مسلمان دل نہیں جیت سکا25 November, 2004 | آس پاس گودھرا رپورٹ پر سیاسی تنازع18 January, 2005 | انڈیا مسلمانوں کےحقوق بتاتا کتابچہ جاری26 September, 2004 | آس پاس لاکھوں نے حج کی سعادت حاصل کی20 January, 2005 | آس پاس کچھ کچھ جائز ہے03 August, 2004 | آس پاس مسلم دنیا اور بین الاقوامی تجارت12 September, 2004 | Blog | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||